
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں جن میں کئی افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی اخبار 'ڈان نیوز' نے عہدے داروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں اتوار کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ڈان کے مطابق راولاکوٹ کے کمشنر سردار وحید خان نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ جھڑپوں میں چار سیکیورٹی اہلکاروں کی بھی ہلاکت ہوئی ہے۔
آزاد و جموں کشمیر کے آئی جی لیاقت علی ملک نے ڈان کو بتایا ہے کہ جھڑپوں میں 23 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جب کہ اتوار کو 30 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرین کی فائرنگ سے ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق مظاہرین نے راولاکوٹ کے سی ایم ایچ اسپتال پر حملہ کیا جس سے حالات خراب ہوئے۔
یہ جھڑپیں ایک تاجر کی ہلاکت سے شروع ہونے والی کشیدگی کے دوران ہوئی ہیں۔ ہفتے کے روز راولاکوٹ میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مبینہ جھڑپ کے دوران عوامی ایکشن کمیٹی کے رُکن کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔
برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کی رپورٹ کے مطابق کمشنر سردار وحید نے انہیں بتایا ہے کہ 'مظاہرین اسپتال کے باہر شاہ زیب کی لاش رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا جاتا اس وقت تک وہ لاش کو نہیں دفنائیں گے۔'
واضح رہے کہ آزاد و جموں کشمیر کی حکومت نے حال ہی میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی یا عوامی ایکشن کمیٹی نامی تحریک کو کالعدم قرار دیا ہے جس کے بعد سے کشمیر کی صورتِ حال کشیدہ ہے۔ یہ تحریک کئی بار کشمیر میں احتجاج کر چکی ہے اور اب بھی نو جون کو احتجاج اور لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے۔
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی اسمبلی میں مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ آزاد و جموں کشمیر میں انتخابات کے بعد بننے والی نئی اسمبلی ہی ایسا کرنے کی مجاز ہوگی۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے بھی مہاجرین کی 12 نشستوں پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں ترمیم کا فیصلہ آئندہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی نئی اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔
آزاد و جموں کشمیر کی حکومت نے جمعے کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا تھا اور اس کے اراکین کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی گئی تھی جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے۔
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر مظفر آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے جب کہ انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے جب کہ پیرا ملٹری فورس اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 27 جولائی کو انتخابات ہونا ہیں جس کے لیے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہے۔






