
فلپائن کے جنوبی علاقوں میں پیر کو 7.8 شدت کے طاقتور زلزلے سے بھاری جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تقریباً 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ درجنوں زخمی ہیں۔
زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہوئی ہیں جن میں لوگوں کے پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔

حکام کے مطابق انخلا کی وارننگ کے بعد ہزاروں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔ جنرل سانتوز کا ایئرپورٹ بھی تاحکم ثانی بند کر دیا گیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کے ابتدائی جھٹکوں کے تقریباً دو گھنٹے بعد تک علاقے میں کئی طاقتور آفٹر شاکس محسوس کیے جاتے رہے۔
سوشل میڈیا پر زلزلے کی کئی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں عمارتوں کو تباہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی بین الاقوامی اداروں نے ویڈیوز کی تصدیق بھی کی ہے۔
سونامی کی پیش گوئی کرنے والے ایک امریکی ادارے 'دی پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر' نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد فلپائن، انڈونیشیا، پلاؤ، تائیوان اور پاپوا نیو گنی کے ساحلی علاقوں میں سونامی کی لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔
فلپائن کے پڑوسی ممالک انڈونیشیا اور ملائشیا نے بھی اپنے ساحلی علاقوں میں آباد افراد کو انخلا کی وارننگ جاری کی ہے۔
واضح رہے کہ فلپائن بحرِ اوقیانوس کے 'رنگ آف فائر' میں موجود ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے فلپائن میں بھی زلزلے معمول کی بات ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں بھی فلپائن میں 7.4 اور 6.7 شدت کے زلزلے آئے تھے جن میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جب کہ اس سے چند روز قبل 6.9 شدت کے زلزلے سے فلپائن کے مرکزی صوبے سیبو میں 76 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 72 ہزار سے زیادہ عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔






