
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں ایک بار پھر امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ دو سے تین دن میں طے پا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔
منگل کی صبح اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ تہران کے ساتھ بات چیت کا عمل کشیدگی کے دوران بھی نہیں رکا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدہ ایک، دو دن میں طے پا سکتا ہے اور سب کچھ بہت اچھا چل رہا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایران اور اسرائیل کی جانب سے حالیہ حملے بند کرنے کے اعلانات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین نے میرے توسط سے حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی اور اب ہم ایک بہت اچھے معاہدے کے آخری مراحل میں ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ کسی بھی شکل اور صورت میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی۔ معاہدہ طے پاتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اور یہ بس دو سے تین دن میں ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ پہلے بھی ایسے بیانات دے چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بہت قریب ہے۔ تاہم بارہا دعوؤں کے باوجود اب تک کسی ابتدائی معاہدے پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔
'مذاکرات صرف جنگ کے خاتمے کے لیے'
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے مذاکرات جنگ کے خاتمے اور دیرپا سیکیورٹی قائم کرنے کے لیے ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات سے امریکہ اور ایران کے تعلقات معمول پر آنے کی توقع نہیں۔
باقر قالیباف کا ایک آڈیو بیان ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پیر کو پوسٹ کیا گیا۔ بیان میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے مذاکرات اس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے نہیں ہو رہے بلکہ ان کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور دیرپا سیکیورٹی کا قیام عمل میں لانا ہے۔
باقر قالیباف نے مزید کہا کہ سفارت کاری فوجی کارروائیوں کو نہیں روک سکی، اور فوجی کارروائیاں سفارت کاری کو نہیں روک سکیں۔ یہ دونوں ہتھیار اپنی ضرورت کے اعتبار سے استعمال کیے جاتے ہیں۔






