بنگلہ دیش میں انتخابات کا میدان سج گیا، مقابلہ کن جماعتوں کے درمیان اور کون ہوگا وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار؟

10:2710/02/2026, الثلاثاء
جنرل10/02/2026, الثلاثاء
ویب ڈیسک
جماعتِ اسلامی کی ریلی کا منظر
جماعتِ اسلامی کی ریلی کا منظر

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے گہما گہمی عروج پر ہے جب کہ انتخابی مہم کے لیے مختص وقت پیر کو ختم ہو چکا ہے۔ ووٹرز 12 فروری کو ملک کی 350 رکنی پارلیمنٹ کی نشستوں پر اپنے نمائندگان کو منتخب کریں گے۔

بنگلہ دیش میں 12 کروڑ 70 لاکھ کے قریب رجسٹرڈ ووٹر ہیں جو جمعرات کو اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ الیکشن کے ساتھ 12 فروری کو ہی ایک ریفرینڈم بھی ہوگا جس میں جولائی نیشنل چارٹر 2025 پر عوامی رائے حاصل کی جائے گی۔

نیشنل چارٹر وہ معاہدہ ہے جو طلبہ کے احتجاج کے بعد وجود میں آیا تھا۔ اس میں بنگلہ دیش میں اصلاحات اور مستقبل میں حکومت چلانے کے اصول ترتیب دیے گئے ہیں۔

بنگلہ دیش کے الیکشن میں دو اتحادوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی انہی اتحادوں کا حصہ ہیں۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں کہ کون کس کے مقابلے پر کھڑا ہے اور کون سی جماعتوں کے درمیان کڑا مقابلہ ہے۔

بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد

بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیا الرحمان اور سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی متعدد چھوٹی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر کے الیکشن لڑ رہی ہے۔

خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے طارق الرحمان بی این پی کی قیادت کر رہے ہیں اور اگر ان کا اتحاد کامیاب ہوتا ہے تو ممکنہ طور پر وہی وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے۔
طارق الرحمان

رائے عامہ کے جائزوں میں بھی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے اتحاد کو برتری حاصل ہے۔ بی این پی نے 300 نشستوں پر ہونے والے براہِ راست انتخابات میں 292 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں جب کہ باقی نشستوں پر اس کی اتحادی جماعتوں کے امیدوار کھڑے ہیں۔

بی این پی نے اپنی انتخابی مہم میں غریب گھرانوں کے لیے معاشی امداد، وزیرِ اعظم کے لیے 10 سال کی حد مقرر کرنے (یعنی کوئی شخص 10 سال سے زیادہ وزیرِ اعظم نہیں رہ سکتا)، کرپشن کے خاتمے اور غیر ملکی سرمایہ کاری لا کر معیشت کو ترقی دینے کے وعدے کیے ہیں۔

جماعتِ اسلامی کا اتحاد

بی این پی کے مدمقابل جماعت اسلامی کا انتخابی اتحاد ہے جس میں 11 سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔

1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی مخالفت کرنے والی جماعتِ اسلامی پر شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں کئی سال پابندی رہی ہے۔ 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد جماعت اسلامی پر سے پابندی ہٹائی گئی اور اب یہ انتخابات میں ایک اہم سیاسی جماعت کے طور پر کھڑی ہے۔

جماعتِ اسلامی کے اتحاد میں طلبہ قیادت کی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) بھی شامل ہے۔ یہ انہی طلبہ کی جماعت ہے جن کے 2024 میں مظاہروں کی وجہ سے شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔

یہ اتحاد کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لیے میدان میں ہے۔ اس کے علاوہ معیشت کی بحالی، پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات، ملکی معیشت کا گارمنٹ کی برآمدی صنعت پر انحصار کم کرنا اور دیگر انڈسٹریوں کو فروغ دینا بھی ان کے انتخابی وعدوں کا حصہ ہے۔
جماعتِ اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان جو جیت کی صورت میں ممکنہ طور پر وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے۔

جماعتِ اسلامی نے 224 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں جب کہ 30 نشستوں پر این سی پی کے امیدوار ہیں۔ باقی نشستوں پر اتحاد میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو نامزد کیا گیا ہے۔

بعض مبصرین کو امید ہے کہ جماعت اسلامی کا اتحاد بی این پی کو تگڑا مقابلہ دے گا۔ اور اگر جماعتِ اسلامی حکومت سازی کے لیے درکار نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب نہ بھی ہوئی تو بھی ایک اچھی پوزیشن میں ضرور ہوگی۔

اگر جماعتِ اسلامی کا اتحاد حکومت سازی کے لیے درکار نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو جماعت کے سربراہ شفیق الرحمان ممکنہ طور پر وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے۔

دیگر سیاسی جماعتیں

ان دو بڑے اتحادوں کے علاوہ دو سیاسی جماعتیں بھی میدان میں ہیں۔ اسلامی آندولن بنگلہ دیش نامی ایک جماعت جو جماعتِ اسلامی کے اتحاد سے علیحدہ ہوئی ہے اور جاتیہ پارٹی جو شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کی اتحادی رہی ہے۔ یہ دونوں جماعتیں علیحدہ حیثیت میں الیکشن لڑ رہی ہیں۔

شیخ حسینہ کی جماعت الیکشن میں کیوں نہیں؟

شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کو امیدوار کھڑے کرنے کی اجازت نہیں ہے کیوں کہ بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے عوامی لیگ کی رجسٹریشن منسوخ کر رکھی ہے۔

بنگلہ دیش میں 2024 کے پرتشدد مظاہروں کے دوران عوامی لیگ کے کردار پر تحقیقات جاری ہیں۔ اور رجسٹریشن منسوخ ہونے کی وجہ سے یہ جماعت الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتی۔

شیخ حسینہ نے الیکشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایک فریق کو باہر رکھ کر کرائے گئے انتخابات منقسم قوم کو متحد نہیں کر سکتے۔

##بنگلہ دیش
##انتخابات
##الیکشن 2026