بنگلہ دیش انتخابات: پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری، ٹرن آؤٹ بہتر رہنے کے دعوے

11:1212/02/2026, جمعرات
جنرل12/02/2026, جمعرات
ویب ڈیسک
پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے
پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے

بنگلہ دیش میں آج ہونے والے 13 ویں عام انتخابات میں پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے اور ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کا عمل مجموعی طور پر پرامن رہا تاہم لڑائی جھگڑوں کے اکا دکا واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

پولنگ جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے سات بجے شروع ہوئی اور شام ساڑھے چار بجے تک جاری رہی۔ بنگلہ دیش کے 12 کروڑ 70 لاکھ کے قریب رجسٹرڈ ووٹرز ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جنہوں نے 350 رکنی پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ووٹرز ٹرن آؤٹ بہتر رہا ہے۔

ووٹر ٹرن آؤٹ سے متعلق کوئی حتمی اعداد و شمار تو سامنے نہیں آئے ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ٹرن آؤٹ اچھا رہا۔

بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن کے سینیئر سیکریٹری اختر احمد نے پولنگ کا وقت ختم ہونے سے دو گھنٹے قبل اپنے ایک بیان میں کہا کہ بیشتر پولنگ اسٹیشنز پر ٹرن آؤٹ 50 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر کے 42 ہزار 651 پولنگ اسٹیشنز میں سے 36 ہزار اسٹیشنز پر ٹرن آؤٹ 50 فیصد کے قریب رہا ہے۔

یاد رہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں مجموعی ٹرن آؤٹ 42 فیصد رہا تھا۔

مقامی میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ کے زیادہ ہونے کی وجہ خواتین کا باہر نکلنا بھی ہے۔ بنگلہ دیش کے 12 کروڑ 80 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں 49 فیصد خواتین ہیں۔

پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد اب نتائج مرتب کیے جائیں گے تاہم حتمی نتائج کا اعلان جمعے تک متوقع ہے۔ نوجوان ووٹرز کے کردار کو فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش میں جمعرات کو الیکشن کے ساتھ ایک آئینی ریفرینڈم پر بھی رائے شماری ہوئی۔ اس ریفرینڈم کے نتائج کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا کہ جولائی کے چارٹر میں جن اصلاحات اور نظام میں تبدیلیوں کی بات کی گئی تھی، ان پر عمل درآمد ہونا چاہیے یا نہیں۔

پولنگ اسٹیشن آنے والے ووٹرز کو دو بیلٹ پیپر دیے گئے۔ ایک کے ذریعے انہیں اپنے نمائندے کا انتخاب کرنا تھا جب کہ دوسرا آئینی ریفرنڈم پر رائے سے متعلق تھا۔

بنگلہ دیش کے یہ الیکشن ماضی کے الیکشنز سے بہت مختلف ہیں اور کافی اہم بھی۔ ان انتخابات میں پہلی بار بیرون ملک مقیم بنگلہ دیشی ووٹرز کی طرف سے بھیجے گئے بیلٹ بھی قبول کیے جا رہے ہیں۔ اور ایسا کئی دہائیوں بعد ہو رہا ہے جب الیکشنز میں شیخ حسینہ اور ان کی حریف خالدہ ضیا دونوں ہی شریک نہیں ہیں۔

خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے طارق الرحمان الیکشن لڑ رہے ہیں جب کہ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہے۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس ووٹ ڈالتے ہوئے

تو پھر مقابلہ ہے کس کے درمیان؟

بنگلہ دیش میں تین بڑی پولیٹیکل پارٹیز ہیں۔ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ، خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش جس پر شیخ حسینہ کی حکومت میں پابندی تھی۔ اس کے علاوہ درجنوں چھوٹی سیاسی جماعتیں بھی ہیں جن میں طلبہ کی سیاسی جماعت این سی پی بھی شامل ہے۔

شیخ حسینہ کی پارٹی پر الیکشن کمیشن نے پابندی لگا دی ہے جس کے باعث اسے الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ باقی دونوں بڑی پولیٹیکل پارٹیاں دو اتحادوں کی شکل میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔
طارق الرحمان اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد

بی این پی نے تقریباً چھ سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر کے اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں اور اسی طرح جماعتِ اسلامی بھی گیارہ پارٹیوں کے اتحاد کے ساتھ الیکشن میں اتری ہے۔ بنگلہ دیش کے طلبہ جن کے مظاہروں کی وجہ سے شیخ حسینہ کی حکومت ختم ہوئی تھی، ان کی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑ رہی ہے۔

الیکشن کے نتائج آج رات تک واضح ہونا شروع ہو جائیں گے تاہم پولز میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے اتحاد کو برتری حاصل ہے۔ اگر بی این پی الیکشن جیتتی ہے تو اس کے سربراہ یعنی خالدہ ضیا کے بیٹے طارق الرحمان وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے۔

دوسری جانب اگر جماعت اسلامی کا اتحاد فتح یاب ہوتا ہے تو جماعت کے سربراہ شفیق الرحمان ممکنہ طور پر وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے۔ وزارتِ عظمیٰ کے یہ دونوں ممکنہ امیدوار اپنا اپنا ووٹ کاسٹ کر چکے ہیں۔
جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان اپنا ووٹ کاسٹ کرنے آتے ہوئے

بنگلہ دیش کے یہ الیکشن 2024 کے پرتشدد مظاہروں اور شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلے الیکشن ہیں۔ 2024 سے بنگلہ دیش میں عبوری حکومت قائم ہے۔


##بنگلہ دیش
##الیکشن
##پولنگ