
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای مارے جا چکے ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے جب کہ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ رہبر اعلیٰ زندہ ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ایرانی سپریم لیڈر کی موت کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھا کہ ’تاریخ کے بدترین لوگوں میں سے ایک خامنہ ای مارے جا چکے ہیں۔ یہ صرف ایران کے لوگوں کے لیے انصاف نہیں ہے بلکہ تمام عظیم امریکیوں اور کئی دیگر ملکوں کے لوگوں کے لیے بھی انصاف ہے جو خامنہ ای اور ان کے خون آشام گروہ کا شکار ہو کر مارے گئے یا زخمی ہوئے۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خامنہ ای ان کی انٹیلی جینس اور انتہائی جدید ٹریکنگ سسٹم سے بچ نہیں سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کے پاس اب بہترین موقع ہے کہ وہ اپنا ملک واپس لیں۔

واضح رہے کہ ہفتے کی صبح ایران کے رہبر اعلیٰ کے دفتر پر مشتمل کمپاؤنڈ پر اسرائیلی و امریکی حملے کے بعد ہی سے خامنہ ای کی زندگی اور موت سے متعلق مختلف رپورٹس گردش کر رہی ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بھی دعویٰ کیا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق خامنہ ای اب نہیں رہے۔
سیٹلائٹ تصاویر میں خامنہ ای کے دفتر کے کمپاؤنڈ کو شدید نقصان پہنچنے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ایرانی عہدے دار دعویٰ کر رہے ہیں کہ سپریم لیڈر خامنہ ای محفوظ ہیں۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ’اے بی سی نیوز‘ کو بتایا ہے کہ رہبر اعلیٰ اور ایرانی صدر مسعود پرشکیان دونوں محفوظ ہیں۔
ایرانی میڈیا نے بھی ایک اعلیٰ عہدے دار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ’آیت اللہ علی خامنہ ای ثابت قدم اور پرعزم ہیں اور جنگ میں ملک کی فعال طریقے سے قیادت کر رہے ہیں۔‘
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے بھی یہ بیان سامنے آ چکا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق خامنہ ای محفوظ ہیں۔ ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی اسنا کے مطابق رہبر اعلیٰ کے آفس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ سید مہرداد مہدی نے کہا ہے کہ ’دشمن نے نفسیاتی جنگ کا سہارا لیا ہے، ہم سب کو اس کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔‘
تاہم ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ایرانی میڈیا نے ہفتے کی صبح یہ دعویٰ کیا تھا کہ خامنہ ای محفوظ ہیں اور وہ جلد بیان بھی جاری کریں گے۔ مگر اب تک ایران کے رہبر اعلیٰ کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔






