
پاکستان اور سات دیگر مسلم ممالک نے غزہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی کے قیام کا خیر مقدم کیا ہے۔
پاکستان، مصر، اردن، سعودی عرب، قطر، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے قائم کردہ قومی کمیٹی امن معاہدے کے دوسرے مرحلے میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 'وزرا نے نیشنل کمیٹی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ غزہ کے عوام کے روز مرہ معمولاتِ زندگی کا نظام سنبھالے گی اور غزہ و مغربی کنارے کے درمیان علاقائی و ادارہ جاتی تعلق محفوظ رکھے گی اور غزہ کے اتحاد کو یقینی بناتے ہوئے اسے تقسیم کرنے کی کوششوں کو مسترد کرے گی۔
وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ کمیٹی، جس کا اعلان 14 جنوری کو ہو چکا ہے، ایک عارضی عبوری باڈی ہے جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردار 2803 کے مطابق قیام پذیر ہوئی ہے۔ یہ باڈی فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس باڈی کا قیام امریکی صدر کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے جس کی وزرا حمایت کرتے ہیں۔
مذکورہ تمام آٹھ ممالک کے رہنماؤں نے گزشتہ سال ستمبر میں غزہ امن منصوبہ سامنے آنے سے کچھ عرصہ قبل امریکی صدر سے نیویارک میں ملاقات بھی کی تھی۔
وزرائے خارجہ نے بیان میں جنگ بندی کا استحکام یقینی بنانے، غزہ میں امداد کی بلارکاوٹ فراہمی، جلد بحالی اور تعمیرِ نو اور علاقے کا انتظام مرحلہ وار فلسطینی اتھارٹی کو دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور دو ریاستی حل پر منحصر منصفانہ اور پائیدار امن کی طرف بڑھا جائے۔
فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی کیا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کا جو منصوبہ پیش کیا تھا اس میں علاقے کا انتظام حماس سے لے کر ایک کمیٹی کے سپرد کیا جانا ہے۔
یہ کمیٹی فلسطینی ٹیکنوکریٹس یعنی کسی خاص شعبے کے ماہرین پر مشتمل ہوگی جو غزہ میں مستقل حکومت کے آنے تک بطور عبوری انتظامیہ کام کرے گی اور علاقے کا نظامِ حکومت چلائے گی۔ اس کمیٹی کی نگرانی ایک بین الاقوامی بورڈ کرے گا جس میں ٹرمپ سمیت بین عالمی رہنما شامل ہوں گے۔
بدھ کو اس کمیٹی کا قیام عمل میں آ گیا ہے۔ اسے ہی فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی بھی کہا جا رہا ہے۔






