
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ کا ایک بیڑا خلیجی خطے کی جانب روانہ ہو رہا ہے اور ہماری توجہ ایران پر مرکوز ہے۔ جبکہ حکام کے مطابق ایک طیارہ بردار بحری جہاز پر مشتمل سٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی اثاثے آئندہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ پہنچ جائیں گے۔
جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے واپسی کے دوران ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایران پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘
’ہم ایک بڑی فورس ایران کی سمت بھیج رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ ممکن ہے ہمیں اسے استعمال نہ کرنا پڑے، ہم نے احتیاطی طور پر بہت سے بحری جہاز اس سمت روانہ کر دیے ہیں۔ ایک بڑا بحری بیڑا اس طرف جا رہا ہے، اور ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔‘
امریکی بحریہ میں اضافے سے متعلق ٹرمپ کا یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں میں نرمی کی تھی۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’انہیں تہران کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مظاہرین کو پھانسی نہیں دی جائے گی۔‘
خطے میں فوجی تیاریوں کی تصدیق ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ ہفتے امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کے سٹرائیک گروپ کو جنوبی بحیرۂ چین میں جاری مشقوں سے ہٹا کر مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر نے جمعرات کو واشنگٹن کو خبردار کیا کہ ملک میں ہونے والے وسیع احتجاج کے بعد ہماری فورسز کی ’انگلی ٹریگر پر ہے‘۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تہران اب بھی مذاکرات میں دلچسپی رکھتا دکھائی دیتا ہے۔
دسمبر کے اواخر میں شروع ہونے والے دو ہفتوں پر مشتمل احتجاجی مظاہروں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران کی مذہبی حکومت کو نقصان پہنچا تھا۔ تاہم سخت کریک ڈاؤن کے باعث یہ تحریک دم توڑ گئی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق اس کارروائی میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ملک بھر میں غیر معمولی انٹرنیٹ بندش بھی نافذ کی گئی۔
فی الحال ایران کے خلاف فوری امریکی فوجی کارروائی کا امکان کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ دونوں فریق اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سفارت کاری کو ایک موقع دیا جائے۔






