
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران میں حالات جلد معمول پر آنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کا چارٹر اور بین الاقوامی قانون کسی بھی ریاست کو دوسری ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے روکتا ہے۔
پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب عاصم احمد نے جمعرات کو سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ 'اقوامِ متحدہ کا چارٹر دوسری ریاستوں کی سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کو دھمکی دینے، اس کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے روکتا ہے۔
سلامتی کونسل کا یہ اجلاس امریکہ کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا جس میں ایران کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایران میں مظاہرین کے خلاف اقدامات پر تنقید کی اور انہیں امریکی صدر ٹرمپ کی حمایت کا یقین دلایا۔
اس دوران پاکستان کے مستقل مندوب کا کہنا تھا 'ہم ایران اور خطے میں ہونے والی پیش رفتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے علاقائی سلامتی اور استحکام کو درپیش نئے خطرات کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنگین تشویش کا باعث ہیں۔
پاکستانی مندوب نے ایران کو 'برادر ملک' قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام مشترکہ تاریخی، دوستانہ، ثقافتی اور مذہبی اقدار رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مستحکم اور پرامن ایران پاکستان کے، خطے کے اور اس سے بڑھ کر سب کے مفاد میں ہے۔ پاکستان کو ایرانی عوام اور اس کی لیڈرشپ کی دانش مندی پر پورا اعتماد ہے جو ان کی تاریخ، مزاحمت اور ملک کی ثقافت سے جڑی ہے۔
عاصم احمد نے مزید کہا کہ کسی بھی ریاست کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے ہم آہنگ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اس بات پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ تمام تنازعات پرامن طریقے سے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق حل کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ طاقت کے استعمال، جارحانہ رویہ اپنانے اور یک طرفہ اقدامات اس بحران میں مزید سنگینی لائیں گے اور غیر ضروری پریشانی کا سبب بنیں گے۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ 'ہم دلی امید رکھتے ہیں کہ ایران میں حالات جلد معمول پر آئیں گے، ملک اندرونی خلفشار اور بیرونی دباؤ سے آزاد ہوگا اور تمام متعلقہ فریق مذاکرات کی میز پر لوٹ کر باہمی احترام اور ایک دوسرے کو سمجھ کر اپنے اختلافات کا دیرپا حل تلاش کریں گے۔






