
امریکہ نے غزہ امن منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے حالاں کہ ابھی تک پہلے مرحلے کی شرائط ہی مکمل نہیں ہوئیں۔
غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے کی شرط کے برخلاف اسرائیل غزہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے جن میں جنگ بندی کے باوجود سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، دوسری جانب غزہ کا مصر کے ساتھ بارڈر بھی نہیں کھولا گیا جو پہلے مرحلے کی شرط تھی جب کہ حماس کی جانب سے ایک یرغمالی کی لاش لوٹانا رہ گئی ہے۔
غزہ امن معاہدے کا دوسرا مرحلہ زیادہ مشکل ہے جس میں امریکہ اور دیگر ثالثوں کو زیادہ چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ اس مرحلے میں حماس سے علاقے کا کنٹرول لینے اور اس کے ہتھیار قبضے میں لینے کی شرط شامل ہے۔ حماس ہتھیار ڈالنے سے انکار کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے مرحلے میں بین الاقوامی امن فورس بھی تعینات کی جانی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں امن معاہدے کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلے میں 'غزہ میں ٹیکنوکریٹک فلسطینی انتظامیہ کا قیام عمل میں لایا جائے گا' اور علاقے کو ہتھیاروں سے پاک کرنے اور تعمیرِ نو کا عمل بھی شروع ہوگا۔
غزہ امن معاہدے کے ثالث ممالک مصر، قطر اور ترکیہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی انتظامی باڈی کے 15 اراکین ہوں گے جس کی سربراہی علی شاط کریں گے۔ علی شاط فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر ہیں۔
'سارا ملبہ سمندر میں ڈال کر نئے جزائر بنا دوں': علی شاط کا منصوبہ
عالی شاط نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا ہے کہ کمیٹی سب سے پہلے غزہ میں ہنگامی بنیادیوں پر ریلیف فراہم کرنے پر توجہ دے گی۔ بے گھر فلسطینیوں کو رہائش فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ 'اگر میں بلڈوزر لا کر سارے ملبے کو سمندر میں پھینکنا شروع کروں اور نئے جزیرے بنا دوں تو نہ صرف میں غزہ کے لیے نئی زمین پیدا کر سکوں گا اور ساتھ ہی ملبہ بھی صاف ہو جائے گا۔ اس سارے عمل میں تین سال سے زیادہ نہیں لگیں گے۔'
تاہم اقوامِ متحدہ کی 2024 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ غزہ کے تباہ حال گھروں کی تعمیرِ نو کم از کم 2040 تک مکمل ہو سکے گی لیکن اس میں کئی دہائیاں بھی لگ سکتی ہیں۔
امن کا بورڈ
اسرائیل اور حماس نے اکتوبر میں ٹرمپ کی جانب سے پیش کرنے امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے میں کہا گیا تھا کہ غزہ کا انتظام فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی سنبھالے گی اور اس باڈی کی نگرانی ایک بین الاقوامی 'بورڈ آف پیس' کرنے گا۔
اس بورڈ کے ممکنہ اراکین کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اس میں کون شامل ہوگا۔ ایک یورپی سفارت کار کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس سے متعلق کوئی اہم پیش رفت اگلے ہفتے تک ہو سکتی ہے۔
ایک امریکی عہدے دار نے صحافیوں سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بورڈ آف پیس کے ممکنہ اراکین کو خود ٹرمپ نے منتخب کیا ہے اور انہیں دعوت نامے بھی بھجوا دیے گئے ہیں۔
عسکریت پسندی کے خاتمے کا چیلنج
اسٹیو وٹکوف کے مطابق امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ کو مکمل طور پر غیر مسلح اور علاقے کی تعمیرِ نو کی جائے گی، تمام غیر متعلقہ افراد سے ہتھیار لیے جائیں گے۔
حماس غزہ کا نظامِ حکومت تو عبوری انتظامیہ کے حوالے کرنے پر راضی ہے لیکن ہتھیار دینے پر آمادہ نہیں۔ جنگ بندی کے بعد حماس نے دوبارہ غزہ پر انتظامی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اور یہ واضح نہیں کہ اس کے انکار کی صورت میں اسے کون اور کیسے غیر مسلح کرے گا۔
حماس کے رہنما اور دیگر فلسطینی دھڑے قاہرہ میں موجود ہیں اور دوسرے مرحلے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ مصری ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس سے ساتھ جاری مذاکرات میں غیر مسلح ہونے پر ہی بات ہو رہی ہے۔
فلسطینی و مصری ذرائع کے مطابق حماس اور اس کی حریف الفتح دونوں ہی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے اراکین کے ناموں پر متفق ہو گئے ہیں۔






