
ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ ایران میں کسی بھی فوجی مداخلت کے خلاف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنے اندرونی مسائل کا حل خود نکالے۔
حاقان فیدان نے یہ گفتگو استنبول میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے بین الاقوامی پہلو بھی ہیں۔ ترک وزیرِ خارجہ کے بقول تہران اپنی بعض پالیسیوں کی وجہ سے پابندیوں کا شکار ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں زور دیا ہے کہ وہ علاقائی ممالک کے ساتھ اپنے مسائل کو حل کریں۔ ان کے بقول ایران کو جوہری معاملات پر عالمی برادری کے ساتھ اپنے مسائل کوئی موقع ضائع کیے بغیر سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے چاہئیں تاکہ وہ معاشی مشکلات سے نکل سکے۔
وزیرِ خارجہ کے مطابق جب کوئی ملک عالمی تنہائی کا شکار ہوتا ہے تو تو بعض معاشی خدمات کی فراہمی محدود ہو جاتی ہے۔
حاقان فیدان کے بقول ایران ایک بڑی آبادی اور متنوع معاشرے والا ملک ہے۔ اس کے نفیس عوام معاشرتی زندگی میں حصہ لینے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ جب آپ ایسے معاشرے کو بعض مواقع سے محروم رکھتے ہیں تو ایسے مسائل ابھرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 'یہاں اصل ابہام یہ ہے کہ معاشی اور دیگر مشکلات کے باعث عوام کو درپیش سختیاں بعض اوقات نظام کے خلاف ایک نظریاتی بغاوت کے طور پر نظر آنے لگتی ہیں جب کہ حقیقت میں یہ ایک مبہم صورتِ حال ہوتی ہے۔
ان کے بقول جب باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ایسی کوئی حالات نہیں جو ایران کے مخالف بعض ممالک کی نظام کے خلاف دشمنی کی خواہش کو ہوا دے۔ تاہم موجودہ پالیسیوں کے باعث پیدا ہونے والی معاشی مشکلات اور انہیں کم کرنے میں ناکامی واقعی سنگین مسائل کو جنم دے رہی ہے۔
حاقان فیدان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں کسی قسم کی مداخلت نہیں دیکھنا چاہتے۔ لیکن جب ٹرمپ کی پالیسیوں پر نظر ڈالی جائے تو اب تک افواج کے استعمال کی کوئی مضبوط ترجیح نظر نہیں آتی۔






