
امریکی سینیٹر مارک وارنر نے کہا ہے کہ امریکہ میں مذہبی امتیاز اور نفرت انگیز انتہا پسندی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام لگایا یہ وہ بھی اسلاموفوبیا اور عرب مخالف جذبات کے پھیلاؤ میں حصہ ڈال رہی ہے۔
پیر کو اپنے ایک بیان میں وارنر کا کہنا تھا کہ انہوں نے سینیٹ کے فلور پر بھی اس بارے میں آواز اٹھائی ہے اور اس کی مذمت کی ہے۔ مارک وارنر امریکی ریاست ورجینیا سے سینیٹر ہیں اور ان کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔ وہ ورجینیا کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔
سینیٹر کا کہنا تھا 'میں آج ہمارے مسلم اور عرب امریکی کمیونٹیز کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کی مخالفت میں کھڑا ہوں اور اس کی مذمت کرتا ہوں۔ بدقسمتی سے موجودہ صدر اور ان کی حکومت کھلے عام اسلاموفوبک اور امتیازی رویوں کو بڑھاوا دے رہی ہے۔'
انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان کو بطور مثال پیش کیا کہ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ صومالیہ سے تعلق رکھنے والوں کو 'کچرے' سے تشبیہ دی اور کہا کہ ہم انہیں اپنے ملک میں نہیں دیکھنا چاہتے۔
وارنر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے یہ الفاظ کراہت آمیز، غیر انسانی اور غیر امریکی تھے جن کی تمام سرکاری حکام کو ہر سطح پر کھل کر مذمت کرنی چاہیے۔
سینیٹر وارنر نے گانگریس کے اندر بھی ایسے رویوں کی نشان دہی کرتے ہوئے ان پر تنقید کی۔ انہوں نے ایک سینیٹر کا نام لیے بغیر کہا کہ میرے ایک ساتھی نے حال ہی میں اسلام کو 'ایک زہریلا مذہب' قرار دیا جو ان کے بقول 'مغربی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔'
وارنر کا کہنا تھا کہ 'ہم سب لوگوں کی، بالخصوص عوامی عہدوں پر فائز لوگوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اس پر خاموشی توڑیں اور اسلاموفوبیا اور عرب مخالف نفرت انگیزی کی کھل کر مذمت کریں۔'
ان کا کہنا تھا کہ اگلا مہینہ رمضان کا ہے، بالخصوص اس موقع پر اور بالعموم پورا سال ہی یہ ہمارا فرض ہے کہ کسی بھی مذہبی کمیونٹی کے خلاف ہر قسم کے متعصب اور امتیازی رویوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور اپنی تمام کمیونٹیز کے ساتھ کسی بھی ناانصافی کی صورت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔






