
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت تیسری دنیا کے تمام ممالک سے امریکا آنے والی ہجرت کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گی تاکہ ملک کا امیگریشن سسٹم مکمل طور پر بحال ہوسکے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار زخمی ہوگئے تھے جن میں خاتون اہلکار ہلاک ہوگئی ہیں۔ اس واقعے میں ایک افغان شہری کو ذمہ داری ٹھہرایا جارہا ہے۔
ٹرمپ کا یہ اعلان امریکہ میں امیگریشن پر لگائی جانے والی پابندیوں کے سلسلے میں حالیہ قدم ہے۔ اس سے قبل وہ واشنگٹن، ڈی سی فائرنگ کے بعد 19 ’خطرے والے ممالک‘ سے گرین کارڈ کی تمام درخواستوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا حکم بھی دے چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں لکھا کہ ’امریکا تیسری دنیا کے تمام ممالک سے امیگریشن مستقل طور پر روک دے گا، بائیڈن دور میں داخل ہونے والے تمام پناہ گزینوں کو ملک بدر کیا جائے گا، اور ان افراد کی شہریت بھی منسوخ کی جائے گی جو امریکا کے لیے اثاثہ نہیں یا مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ تمام وفاقی فوائد اور سبسڈیاں صرف امریکی شہریوں تک محدود کی جائیں گی۔ صرف ریورس مائیگریشن ہی اس مسئلے کا مستقل حل ہے۔ جو لوگ امریکا سے نفرت کرتے ہیں، نقصان پہنچاتے ہیں یا اسے تباہ کرتے ہیں، وہ یہاں زیادہ دیر نہیں رہیں گے۔
اگرچہ ٹرمپ نے ’تھرڈ ورلڈ ممالک‘ کی وضاحت نہیں کی، عام طور پر اس سے ترقی پذیر ممالک مراد لیے جاتے ہیں جو گلوبل ساؤتھ میں ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو نکال دیں گے جو امریکہ کے لیے فائدہ مند نہ ہو، یا جو ہمارے ملک سے محبت کرنے کے قابل نہ ہو۔
امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے جمعرات کو بتایا کہ صدر نے انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ ’امریکہ کے لیے تشویش کا باعث بننے والے ممالک سے آنے والے ہر اجنبی کے لیے گرین کارڈ کی مکمل اور سخت جانچ پڑتال کریں۔‘
جوزف ایڈلو نے کہا ’اس ملک اور امریکی عوام کا تحفظ سب سے اہم ہے اور امریکی عوام سابقہ انتظامیہ کی لاپرواہ پناہ گزینی پالیسیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا‘۔
ایڈلو نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سے ممالک اس فہرست میں شامل ہیں؟ لیکن جب یہی سوال ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے 4 جون کے صدراتی آرڈر کی طرف اشارہ کیا، جس میں 19 ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس فہرست میں افغانستان، ہیٹی، ایران، میانمار، وینزویلا، صومالیہ اور یمن شامل ہیں۔
امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ تمام افغان امیگریشن درخواستوں کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دے گا، جب تک کہ سیکیورٹی اور جانچ کے طریقہ کار کا مزید جائزہ نہ لیا جائے۔
وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنے والا کون تھا؟
امریکہ میں مہاجرین پر پابندیاں ایسے وقت سامنے آئیں جب واشنگٹن ڈی سی کی ڈسٹرکٹ اٹارنی جینین پیرو نے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے مشتبہ شخص کی شناخت رحمان اللہ لاکھن وال کے طور پر کی، جو 29 سالہ افغان شہری ہے اور پہلے افغانستان میں امریکی فورسز کے ساتھ کام کر چکا ہے۔
پیرو کے مطابق رحمان اللہ لاکھن وال ایک پروگرام ’آپریشن الائیز ویلکم‘ کے تحت امریکا آیا تھا، جو 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکام، بشمول ایف بی آئی، اس کی امیگریشن تاریخ اور جانچ کے عمل کا جائزہ لیں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے ہی امریکا میں امیگریشن پر سخت اقدامات کیے ہیں۔ اکتوبر میں اعلان کیا گیا کہ 2026 میں صرف 7,500 مہاجرین کو قبول کیا جائے گا، جو 1980 کے بعد سب سے کم تعداد ہے۔
امریکی حکومت حالیہ مہاجرین کی آمد کا بھی بڑے پیمانے پر جائزہ لے رہی ہے۔
میمو میں تقریباً 200,000 مہاجرین کے جائزے کا حکم دیا گیا ہے، جو صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکا آئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اس دوران امریکا آنے والے مہاجرین کے گرین کارڈ کی درخواستیں بھی معطل کر دی گئی ہیں۔






