وائٹ ہاؤس کے باہر افغان شہری کا حملہ سنگین خطرات کی نشاندہی ہے، افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے عسکریت پسند سرحد پار حملے کرتے ہیں: پاکستان دفتر خارجہ

13:1628/11/2025, جمعہ
جنرل28/11/2025, جمعہ
ویب ڈیسک
وائٹ ہاؤس کے باہر افغان شہری کا حملہ سنگین خطرات کی نشاندہی ہے: پاکستان دفتر خارجہ
وائٹ ہاؤس کے باہر افغان شہری کا حملہ سنگین خطرات کی نشاندہی ہے: پاکستان دفتر خارجہ

پاکستان نے واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب افغان شہری کی فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ سرحد پار دہشت گردی سے پیدا ہونے والے خطرات کو واضح کرتا ہے۔

دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے دنیا کا مضبوط اور مؤثر تعاون اب پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ’واضح طور پر دہشت گردی ہے اور امریکی سرزمین پر ایک سنگین جرم‘ ہے۔

وزارتِ خارجہ نے کہا کہ پچھلے بیس برسوں میں پاکستان خود ایسے بہت سے حملوں کا سامنا کرتا رہا ہے جن کے رابطے افغانستان سے جڑتے ہیں۔

اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھپے ٹی ٹی پی کے عسکریت پسند سرحد پار حملے کرتے ہیں اور انہیں انڈیا کی حمایت حاصل ہے، لیکن کابل اور نئی دہلی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ بدھ وائٹ ہاؤس کے قریب ایک افغان شہری کی فائرنگ سے امریکی نیشنل گارڈ کے دو اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ ویسٹ ورجینیا سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ سپیشلسٹ سارہ بیکسٹروم جمعرات کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں، جبکہ 24 سالہ اسٹاف سارجنٹ اینڈریو وولف اب بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔

29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال پر فائرنگ کا الزام ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ ماضی میں افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ کام کر چکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کو ’دہشت گرد حملہ‘ قرار دیا ہے۔


یہ بھی پڑھیں:


#امریکا
#ٹرمپ
#وائٹ ہاؤس