
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے دو پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دو ارب ڈالرز کے سعودی قرض کے بدلے جے ایف 17 لڑاکا طیارے فراہم کرنے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق اسے ایک سورس نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا محور صرف جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تھا جب کہ دوسرے سورس کا کہنا تھا کہ زیرِ غور دیگر آپشنز میں سے بنیادی انتخاب جے ایف-17 طیارے ہی تھے۔
جے ایف 17 پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ لڑاکا طیارہ ہے جو پاکستان میں تیار کیا جاتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ معلومات اسے فوج کے قریبی ذرائع سے ملی ہیں جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیوں کہ وہ اس معاملے پر بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ پہلے سورس نے بتایا کہ معاہدے کی مجموعی مالیت چار ارب ڈالر ہے جس میں دو ارب ڈالر کے قرض کی تبدیلی کے علاوہ مزید دو ارب ڈالر سازوسامان پر خرچ کیے جائیں گے۔
پاکستان کی فوج اور وزارتِ دفاع و خزانہ نے رائٹرز کے رابطہ کرنے پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری میڈیا آفس نے بھی معاملے پر کوئی رائے نہیں دی ہے۔
پاکستان کی فوج نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائی افواج کے سربراہ ظہیر احمد بابر سدھو رواں ہفتے سعودی عرب میں موجود تھے جہاں انہوں نے اپنے سعودی ہم منصب سے ملاقات کی جس میں باہمی دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی کے ماحول اور شراکت داری کے مستقبل کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی عرب کا قرض
سعودی عرب نے 2018 میں پاکستان کے لیے چھ ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا تھا جس میں سے تین ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں ڈپازٹ کے طور پر رکھے گئے ہیں اور تین ارب ڈالر مالیت کا خام تیل مؤخر ادائیگیوں پر دینے کا وعدہ تھا۔
سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک کے ڈپازٹس کی مدت میں کئی مرتبہ توسیع کی ہے جس سے پاکستان کو اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے میں مدد ملی ہے۔
اسلحے کی برآمدات بڑھانے کی کوششیں
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں دفاعی سطح پر روابط بڑھائے ہیں۔ پاکستان اپنے اسلحے کی برآمدات کو وسعت دینے اور اپنی مقامی دفاعی صنعت کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
گزشتہ ماہ پاکستان نے لیبیا کے مشرقی حصے میں کنٹرول رکھنے والی لیبین نیشنل آرمی کے ساتھ ہتھیاروں کی فراہمی کا معاہدہ کیا ہے جو چار ارب ڈالر سے زائد مالیت کا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کا ہتھیاروں کی فروخت کا سب سے بڑا معاہدہ ہے جس میں جے ایف 17 طیارے اور تربیتی طیاروں کی فراہمی بھی شامل ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بھی جے ایف 17 طیاروں کی ممکنہ فروخت پر بات ہو رہی ہے۔
منگل کو وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کو جے ایف 17 طیاروں کے آرڈرز مل رہے ہیں جو اس کی معیشت کا آئی ایم ایف پر انحصار ختم کر سکتے ہیں۔






