ایران میں اب کیسے حالات ہیں؟

12:0713/01/2026, منگل
جنرل13/01/2026, منگل
ویب ڈیسک
ایران میں پرتشدد مظاہرے کئی روز سے جاری تھے۔
ایران میں پرتشدد مظاہرے کئی روز سے جاری تھے۔

ایران میں کئی دن بعد منگل کو پابندیوں میں کچھ نرمی کی گئی ہے اور شہریوں کے لیے بیرونِ ملک کال کرنے کی سروس کھول دی گئی ہے۔ تاہم ملک میں انٹرنیٹ اور ٹیکسٹ میسجنگ سروسز اب بھی بند ہیں۔ مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اگرچہ ایرانی شہری اب اپنے موبائل فون سے بیرونِ ملک کال کر سکتے ہیں مگر کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم افراد انہیں کال نہیں کر پا رہے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق ایک عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایس ایم ایس سروس اب بھی بند ہے اور انٹرنیٹ پر کسی بیرونی ویب سائٹ تک رسائی نہیں ہو پا رہی۔ صرف حکومتی منظور شدہ ویب سائٹس ہی کھل رہی ہیں۔

ملک میں انٹرنیٹ کی بندش کو 100 گھنٹوں سے بھی زیادہ وقت ہو چکا ہے۔ کچھ علاقوں میں ایلون مسک کی سیٹیلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی کی بھی اطلاعات ہیں۔

ہلاکتوں میں اضافہ

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 646 تک جا پہنچی ہے۔

ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نامی ایک امریکی ادارہ ایران میں انسانی حقوق کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ اپنے ذرائع سے ایران میں ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیلات جاری کر رہا ہے۔

ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (ہرانہ) پہلے بھی مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق رپورٹس جاری کرتا رہا ہے اور ماضی میں اس کے اعداد و شمار درست ثابت ہوئے ہیں۔ اس لیے اسے قابلِ اعتبار ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

منگل کو اس ادارے نے اپنے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق ایران میں مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 646 ہو چکی ہے جن میں 512 مظاہرین اور 134 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

ایجنسی کے مطابق ساڑھے دس ہزار سے زیادہ لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

##ایران
##مظاہرے
##ہلاکتیں