
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور وینزویلا کے درمیان خام تیل کا ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت دو ارب ڈالر مالیت کا تیل امریکہ منتقل کیا جائے گا۔
اس معاہدے سے ایک طرف وینزویلا سے چائنہ کو تیل کی سپلائی میں خلل آئے گا تو دوسری جانب وینزویلا کو خام تیل کی پیداوار میں کمی نہیں کرنی پڑے گی۔
وینزویلا کا لاکھوں بیرل خام تیل ٹینکرز میں لوڈڈ حالت میں موجود ہے یا اسٹوریج ٹینکس میں پڑا ہے اور وہ اسے برآمد کرنے سے قاصر ہے۔ کیوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر کے وسط سے وینزویلا کے تیل کی برآمد پر ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس تیل کو منڈی کی قیمتوں کے مطابق فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم میں کنٹرول کروں گا، یہ یقینی بنانے کے لیے کہ یہ رقم وینزویلا اور امریکہ کے عوام کے مفاد میں خرچ ہو۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کے وزیرِ توانائی کرس رائٹ اس معاہدے کی تکمیل کی نگرانی کریں گے۔ ان کے بقول خام تیل بحری جہازوں سے لے کر سیدھا امریکی بندرگاہوں پر پہنچایا جائے گا۔
وینزویلا کے حکام نے ٹرمپ کے اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔






