امریکہ: امگریشن اہلکاروں کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے

11:018/01/2026, جمعرات
جنرل8/01/2026, جمعرات
ویب ڈیسک
منی ایپلس میں خاتون کی ہلاکت کے خلاف امریکہ میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
منی ایپلس میں خاتون کی ہلاکت کے خلاف امریکہ میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

امریکہ کے شہر منی ایپلس میں امگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے اہلکاروں کی فائرنگ سے 37 سالہ خاتون کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والی خاتون رینی نکول گڈ ایک 'پرتشدد شر انگیز' تھیں جنہوں نے امگریشن اہلکاروں پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی اور اسی وجہ سے ان پر دفاع میں فائرنگ کی گئی۔

تاہم منی ایپلس کے میئر جیکب فرے نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'یہ امگریشن ایجنٹس کی بلا جھجک طاقت کے استعمال کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے آج کوئی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔' انہوں نے آئی سی ای کے اہلکاروں سے شہر چھوڑنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

منی ایپلس امریکی ریاست منیسوٹا کا شہر ہے اور یہ ان علاقوں میں شامل ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر قانونی تارکینِ وطن کی گرفتاریوں کے خلاف مہم زور و شور سے جاری ہے۔

واقعہ بدھ کی صبح پیش آیا جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہیں۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میرون رنگ کی ایک گاڑی ایک سڑک کو بلاک کیے ہوئے ہے اور وہاں کچھ لوگ احتجاج بھی کر رہے ہیں۔ اتنے میں سیکیورٹی اہلکار گاڑی کے قریب آتے ہیں اور خاتون کو گاڑی سے باہر نکلنے کا کہتے ہیں۔ ایک ایجنٹ گاڑی کے ڈرائیور کے دروازے اور دوسرا گاڑی کے آگلے حصے کے قریب موجود نظر آتا ہے۔ گاڑی آگے بڑھانے کی کوشش پر ایک ایجنٹ فائر کر دیتا ہے جس سے گاڑی بے قابو ہو کر ایک اور کار سے ٹکرا جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئی سی ای کے افسر کو 'بے رحمی سے' گاڑی تلے کچلنے کی کوشش کی گئی اور یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ وہ زندہ بچ گیا مگر اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

خاتون کو سر میں گولی لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی اور جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا ہے وہ اس جگہ سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہے جہاں 2020 میں جارج فلائیڈ نامی ایک سیاہ فام شہری کو پولیس نے قتل کر دیا تھا۔ جارج فلائیڈ کے قتل کے واقعے پر امریکہ میں کئی روز تک مظاہرے جاری رہے تھے۔

رینی نکول گڈ کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کا چھ سال کا ایک بچہ ہے۔ نکول نے اپنے سوشل میڈیا پر خود کو 'شاعرہ، مصنف، بیوی اور ماں' کے طور پر متعارف کرایا ہوا ہے۔

مقامی انتظامیہ ٹرمپ حکومت کے مؤقف کی مخالف

ان کے ہلاکت کے بعد منی ایپلس میں سینکڑوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ یہ امریکہ میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ہونے والی پانچویں ہلاکت ہے۔

منی ایپلس کی مقامی انتظامیہ اور پولیس نے ٹرمپ حکومت کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ یہ دفاع میں کی گئی کارروائی تھی اور خاتون نے امگریشن اہلکار کو گاڑی تلے کچلنے کی کوشش کی۔ مقامی پولیس چیف برائن او ہارا نے کہا ہے کہ ایسا کوئی تاثر نہیں ملا کہ ڈرائیور کسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی تھی۔

منی ایپلس کے میئر جیکب فرے نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم کی بتائی گئی تفصیلات کو 'فضول' قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے واقعے کی ویڈیوز دیکھی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کارروائی دفاعی نہیں تھی اور اس سے بچا جا سکتا تھا۔

انہوں نے منی ایپلس اور اس کے ساتھ واقع شہر سینٹ پال میں 2000 امگریشن ایجنٹس کی تعیناتی پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یہ خاندانوں کو توڑ رہے ہیں، گلیوں میں انتشار پھیلا رہے ہیں اور اس کیس میں تو لوگوں کو مات بھی رہے ہیں۔


##امریکہ
##منی ایپلس
##مظاہرے