ایران میں پرتشدد مظاہرے، ہلاکتیں اور جلاؤ گھیراؤ جاری؛ 'خامنہ ای ملک سے نکلنے کا سوچ رہے ہیں'، ٹرمپ

10:459/01/2026, جمعہ
جنرل9/01/2026, جمعہ
ویب ڈیسک
ایران میں مظاہروں کا سلسلہ 28 دسمبر سے شروع ہوا تھا جو اب تک نہیں تھم سکا ہے
ایران میں مظاہروں کا سلسلہ 28 دسمبر سے شروع ہوا تھا جو اب تک نہیں تھم سکا ہے

ایران میں کئی روز سے جاری مظاہرے تھمنے کا نام نہیں لے رہے اور ان میں اب مزید شدت آ گئی ہے۔ ایران کے جلاوطن سابق ولی عہد رضا پہلوی کی کال کے بعد جمعے کی صبح ملک بھر میں بڑے مظاہرے ہوئے ہیں جب کہ حکومت نے انٹرنیٹ اور انٹرنیشنل فون کالز بند کر دی ہیں۔

ملک میں مظاہروں کی شدت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کیوں کہ ایران میں میڈیا پر سخت کنٹرول کی وجہ سے درست معلومات سامنے آنا مشکل ہے جب کہ ملک میں انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔

انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری نیوز ایجنسیاں بھی آف لائن ہو گئی ہیں۔

مظاہروں کی بہت سی ویڈیوز وائرل ہیں مگر ان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے جمعے کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے دہشت گرد ایجنٹ آگ لگا رہے ہیں اور تشدد بھڑکا رہے ہیں۔ سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ مظاہروں میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں تاہم ان کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق مظاہروں میں لوگوں کی گاڑیاں، موٹر سائکلیں اور سرکاری املاک جیسے میٹرو، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور بسیں بھی جلائی گئی ہیں۔

سرکاری میڈیا مظاہروں کے بارے میں محدود معلومات جاری کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر مظاہروں کی بہت سی ویڈیوز وائرل ہیں تاہم ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ البتہ خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں مظاہرین ایرانی پرچم پھاڑ رہے ہیں۔

ایران میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی ایک امریکی نیوز ایجنسی نے جمعے کو رپورٹ کیا ہے کہ ملک کے تمام 31 صوبوں میں 390 سے زیادہ مقامات پر مظاہرے ہوئے ہیں۔ ان مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتیں 42 تک پہنچ چکی ہیں جب کہ 2270 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

یہ نیوز ایجنسی معلومات کے لیے ایران میں ایکٹیوسٹس کے نیٹ ورک کا استعمال کرتی ہے اور اس کی رپورٹس کو قابل اعتماد سمجھا جاتا ہے۔

کیا ایران میں رضا پہلوی کی حمایت بڑھ رہی ہے؟

مظاہروں کی کچھ ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں لوگ ملک کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں۔ رضا پہلوی ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی کے بیٹے ہیں جو 1979 میں ملک میں آنے والے انقلاب سے قبل ملک چھوڑ گئے تھے اور 1980 میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

رضا پہلوی نے جمعرات کی رات مظاہروں کی کال دی تھی اور جمعے کو بھی رات آٹھ بجے احتجاج کی کال دی ہے۔

جمعرات کو آٹھ بجے تہران کے علاقوں میں بڑی تعداد میں مظاہرین نکلے۔ عینی شاہدین کے مطابق بعض لوگوں نے 'ڈکٹیٹر مردہ باد' اور اسلامی جمہوریہ مردہ باد' کے نعرے بھی لگائے۔ بعض افراد شاہ کے حق میں بھی نعرے بازی کرتے رہے۔ اس صورتِ حال کے بعد ملک بھر میں مواصلات کے تمام ذرائع بند کر دیے گئے۔

رضا پہلوی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی عوام نے آج رات آزادی کا حق مانگا ہے اور ایرانی رجیم نے مواصلات کے تمام ذرائع بند کر دیے ہیں۔ اس نے انٹرنیٹ، لینڈ لائنز بند کر دی ہیں اور سیٹیلائٹ سگنلز کو بھی جام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رضا پہلوی نے مغربی ممالک سے ایرانی مظاہرین کی مدد کی درخواست کی ہے۔

ٹرمپ کی ایران کو دھمکیاں

ایران میں پہلے بھی کئی مرتبہ ایسے ملک گیر مظاہرے ہو چکے ہیں تاہم ایرانی حکومت ان پر قابو پانے میں کامیاب رہی ہے۔ اس بار حکومت پہلے کی طرح مظاہروں کو سختی سے کچلتی یا طاقت کا بھرپور استعمال کرتی نظر نہیں آ رہی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر اس نے 'پرامن مظاہرین کو قتل کیا' تو 'امریکہ مظاہرین کی مدد کو آئے گا۔'

امریکہ کے ایک سینیٹر لنزے گراہم نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کی دھمکی بھی دی ہے۔

جمعرات کو صدر ٹرمپ اپنے ایک انٹرویو میں دوبارہ ایران کو دھمکی دی اور کہا کہ 'ایران کو بہت سختی سے بتا دیا گیا ہے کہ اگر اس نے مظاہرین کو قتل کیا تو انہیں سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔'

ایک اور انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای ایران سے فرار ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'وہ کہیں اور جانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ وہاں صورتِ حال بہت خراب ہو گئی ہے۔'

##ایران
##مظاہرے
##امریکہ
##ٹرمپ