افغانستان میں سونے کی کان کن کمپنی کے ملازمین اور مقامی رہائشیوں کی جھڑپوں میں چار افراد ہلاک ہوئے

11:228/01/2026, Perşembe
جنرل8/01/2026, Perşembe
ویب ڈیسک
تخار میں وہ مقام جہاں جھڑپیں ہوئی ہیں۔
تخار میں وہ مقام جہاں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

افغانستان میں سونے کی ایک کان چلانے والی کمپنی کے ملازمین اور مقامی رہائشیوں کے درمیان جھڑپوں کے واقعات میں چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان حکومت کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبد المتین قانے نے بدھ کو واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جھڑپیں منگل کو افغانستان کے صوبے تخار میں ہوئیں جن میں کمپنی کا ایک ملازم اور تین مقامی رہائشی ہلاک ہوئے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ جھڑپیں کس وجہ سے ہوئیں اور کمپنی کس کی ملکیت ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں سونے کی کان پر جھڑپوں کی اطلاعات دو روز سے آ رہی تھیں اور بعض مقامی و بین الاقوامی ادارے اس بارے میں رپورٹ بھی کر رہے تھے۔

اپنے بیان میں ترجمان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے ایک ملازم اور ایک رہائشی کو تشدد کے واقعے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے جلد ہی امن و امان قائم کرا دیا جب کہ تخار صوبے کے نائب گورنر اور دیگر حکام نے صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے علاقے کا دورہ بھی کیا ہے۔

افغانستان کے ایک مقامی نیوز پلیٹ فارم 'آمو نیوز' کے مطابق مقامی افراد کا سونے کی کان کن کمپنی سے شکوہ ہے کہ اس کے آپریشنز ان کی زرعی زمینوں کو تباہ کر رہے ہیں، پانی تک رسائی ختم کر رہے ہیں اور ان کی روز مرہ زندگیوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔آمو نیوز نے مقامی افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ کشیدگی تب بڑھی جب طالبان فورسز نے علاقے میں مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی جس کے بعد مظاہرین مشتعل ہو گئے اور انہوں نے پتھراؤ کیا اور کان کنی کے آلات کی توڑ پھوڑ کی۔

مقامی میڈیا کے مطابق مظاہرے سماتی نامی سونے کی کان پر ہوئے جو تقریباً 12 کلو میٹر کے علاقے پر پھیلی ہوئی ہے۔ طالبان نے اس علاقے میں کان کنی کے لیے دو سال قبل ایک چائنیز کمپنی کو پانچ سال کا ٹھیکہ دیا تھا اور یہ افغان کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ اس معاہدے کے تحت کان کنی سے ہونے والی آمدن کا 56 فیصد حصہ طالبان حکومت اور 44 فیصد کان کن کمپنی کا ہوگا۔ سیکیورٹی طالبان کی ذمے داری ہے۔

عبد المتین قانے نے مزید بتایا کہ کمپنی کے آپریشنز معطل کر دیے گئے ہیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان اکبر حقانی نے کہا ہے کہ اعلیٰ حکام نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے اور مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائیں گی۔

##افغانستان
##طالبان
##جھڑپیں