ایران میں مظاہروں کے دوران 500 سے زائد ہلاکتوں کا دعویٰ، ایرانی قیادت نے مذاکرات کی پیش کش کی ہے: ٹرمپ

10:2812/01/2026, Pazartesi
جنرل12/01/2026, Pazartesi
ویب ڈیسک
استنبول میں ایرانی سفارت خانے کے باہر ایک خاتون ایرانی مظاہرین کے حق میں احتجاج کر رہی ہے۔
استنبول میں ایرانی سفارت خانے کے باہر ایک خاتون ایرانی مظاہرین کے حق میں احتجاج کر رہی ہے۔

ایران میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیم کا دعویٰ ہے کہ 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران پر مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں اور اب انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت نے ان سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔

ایران میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک امریکی تنظیم 'ہرانہ' (HRANA) نے اتوار کو رپورٹ کیا ہے کہ انہوں نے 490 مظاہرین اور 48 سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ دو ہفتوں سے جاری مظاہروں کے دوران 10 ہزار 600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

یاد رہے کہ ماضی میں اس تنظیم کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار درست ثابت ہوئے ہیں لہٰذا اسے ایک قابلِ اعتماد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ادھر ایران کی جانب سے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی کوئی تعداد نہیں بتائی گئی۔

مظاہرے تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئے ہیں اور ملک میں کئی روز سے انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایلون مسک سے بات کریں گے کہ وہ ایران میں اپنی اسٹار لنک سروس کے ذریعے انٹرنیٹ بحال کریں۔

امریکہ کا مسلسل بڑھتا دباؤ

امریکہ نے مظاہرین کی ہلاکتوں کے معاملے پر ایران میں مداخلت کی دھمکی دی ہے۔ تاہم اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی قیادت نے ان سے رابطہ کیا ہے اور وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو 'ملاقات سے پہلے بھی کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔'

صدر ٹرمپ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ امریکہ کن اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ لیکن اتوار کو انہوں نے کہا کہ 'ہم کچھ سخت آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔'

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق انہیں دو ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی کی ٹیم ایران میں سائبر حملوں یا براہِ راست حملوں پر غور و فکر کر رہی ہے جو امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کیے جا سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ہفتے کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے بات کی اور امریکہ کی ایران میں ممکنہ مداخلت کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

اتوار کو ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'معاملے کو فوج دیکھ رہی ہے اور ہم نہایت سخت آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ 'اگر انہوں نے کوئی جوابی کارروائی کی تو ہم انہیں ایسی مار ماریں گے جو اس سے پہلے انہوں نے دیکھی نہیں ہوگی۔'

'امریکہ کوئی مس کیلکولیشن نہ کرے'

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ کوئی 'مس کیلکولیشن' نہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو قابض علاقوں (اسرائیل) اور امریکہ کے تمام فوجی اڈے اور جہاز ہمارا جائز ہدف ہوں گے۔'

ایرانی حکومت امریکی اور اسرائیل کو ملک میں بدامنی پھیلانے کا ذمے دار قرار دے رہی ہے۔ حکومت نے پیر کو ایک ملک گیر ریلی کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ریلی 'اسرائیل و امریکہ کے دہشت گردانہ اقدامات' کی مذمت کے لیے کی جائے گی۔

عالمی مدد جلد پہنچ جائے گی: رضا پہلوی

ایران کے سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے کہا ہے کہ ان کی رائے میں ایران میں حکومت کو 'جابرانہ قوتوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور لوگوں پر فائرنگ میں اضافہ اختیارات کی وجہ سے نہیں، بلکہ کرائے کے فوجیوں کی کمی اور تیزی سے حکومت گرنے کا خدشہ ہے۔'

واضح رہے کہ رضا پہلوی انقلاب ایران کے بعد سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور وہ اس وقت امریکہ میں مقیم ہیں۔

اتوار کی شام ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں پہلوی نے کہا کہ ایران کے اندر احتجاجی مظاہروں کے دوران پہلوی کے نام کا نعرہ لگانے والے مظاہرین کا 'پیچھے ہٹنے' کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ایران میں مظاہرین تنہا نہیں ہیں۔ 'بین الاقوامی امداد جلد پہنچ جائے گی۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اکیلے نہیں ہیں۔ عالمی امداد بھی جلد ہی پہنچ جائے گی۔ میرے اگلے پیغامات کے لیے ہمارے ساتھ رہیں۔ ہم جلد ہی اپنے پیارے ایران کو اسلامی جمہوریہ سے واپس لیں گے اور ایران میں ہر جگہ آزادی اور فتح کا جشن منائیں گے۔'

پرامن احتجاج حق ہے مگر مسلح گروہوں سے سختی سے نمٹا جائے گا: ایرانی صدر

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری مظاہروں کے دوران اپنی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا دفاع کیا ہے۔ سرکاری نیوز چینل آئی آر آئی این این پر اتوار کو نشر ہونے والے انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ پرامن احتجاج عوام کا حق ہے مگر مسلح گروہوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 'فریب' میں نہ آئیں اور ایسے انتشار کا حصہ نہ بنیں جو دیرپا نقصان چھوڑ سکتا ہے۔

ایرانی صدر نے اعتراف کیا کہ عوام میں معیشت کے حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران موجودہ بحران پر قابو پا لے گا۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ حکومت نے احتجاج شروع ہوتے ہی فوری اقدامات کیے، تاجروں سے ملاقات کی اور صوبائی حکام کو مظاہرین سے رابطے کی ہدایت دی۔

انہوں نے کا کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی احتجاج جائز ہے۔ حکومت اقتصادی شعبے سے متعلق شکایات سن رہی ہے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔'

ایرانی صدر کے مطابق احتجاج عوام کا حق ہے اور ہمیں اسے سننا چاہیے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فسادات، عوامی املاک پر حملے، مساجد کو جلانا اور خدا کی کتاب کو جلانا امریکہ اور اسرائیل کے منصوبے کا حصہ ہیں۔

مسعود پزشکیان نے ان واقعات اور ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیا ایسے اقدامات کو امریکہ یا یورپ میں احتجاج کہا جائے گا؟

##ایران
##امریکہ
##احتجاج
##اسرائیل