
پاکستان اور چائنہ نے اپنے ایک مشترکہ اعلامیے میں مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں قائم تمام دہشت گرد تنظیوں کے خاتمے کے لیے قابلِ تصدیق اور واضح اقدامات کیے جائیں اور ان دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین کسی اور ملک کے خلاف استعمال کرنے سے روکا جائے۔
یہ اعلامیہ پاکستان اور چائنہ کے وزرائے خارجہ کے اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کا ساتواں مرحلہ مکمل ہونے کے بعد پیر کو جاری ہوا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار دو روزہ دورے پر بیجنگ میں موجود ہیں۔بات چیت کے دوران دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات اور وسیع شعبوں میں تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ جن میں اسٹرٹیجک و سیاسی تعاون، دفاع و سلامتی، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی روابط وغیرہ کے امور شامل تھے۔
دونوں فریقین نے اسٹرٹیجک رابطے مضبوط کرنے، باہمی اعتماد بڑھانے، مشترکہ مفادات کے تحفظ، اور خطے و اس سے باہر امن، ترقی اور خوش حالی کے فروغ پر اتفاق کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے افغانستان میں قائم تمام دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے مزید واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ تنظیمیں علاقائی اور عالمی سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان تنظیموں کو کسی اور ملک میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے اور کسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ بننے سے روکا جائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ وہ:
- افغانستان کے معاملے پر قریبی رابطے اور تعاون برقرار رکھیں گے
- افغان حکومت کے ایک سیاسی فریم ورک تشکیل دینے کی حوصلہ افزائی کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کریں گے
- متعدل پالیسیاں اپنائیں گے
- ترقی پر توجہ دیں گے اور اچھے پڑوسی ثابت ہوں گے
- اور افغانستان کو مستحکم ترقی کے حصول میں مدد دینے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ کھڑا کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کریں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چائنہ نے انسدادِ دہشت گردی اور چائنیز شہریوں، اداروں اور منصوبوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے اقدامات کو سراہا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں جو بڑی قربانیاں دی ہیں، چائنہ ان اہم خدمات کو مکمل طور پر تسلیم کرتا ہے۔
دونوں ممالک نے 2026 میں چائنہ - پاکستان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر یادگاری تقریبات کے آغاز کا اعلان کیا۔ تاکہ دوستی کو مزید مستحکم کیا جا سکے اور تعاون کے نئے شعبے کھولے جا سکیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہر قسم اور شکل کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس رکھیں گے۔ دونوں ملکوں نے انسداد دہشت گردی و سیکیورٹی کے لیے اور پاکستان چائنہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے پر تعاون بڑھانے کے لیے متفقہ کوششوں پر اتفاق کیا۔
پاکستان کی جانب سے 'ون چائنہ' پالیسی کی حمایت کا اعادہ
دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات پر غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے ون چائنہ پالیسی کی مکمل حمایت کی اور تائیوان کو چین کا ناقابلِ تقسیم حصہ قرار دیا۔
اس میں مزید کہا گیا کہ 'پاکستان چائنہ کی قومی وحدت کے حصول کے لیے ہر کوشش کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور 'تائیوان کی آزادی' کی کسی بھی شکل، نیز 'دو چین' یا 'ایک چین، ایک تائیوان' جیسے کسی بھی تصور کی مخالفت کرتا ہے۔'
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ 'پاکستان سنکیانگ، شیزانگ (تبت)، ہانگ کانگ اور بحیرۂ جنوبی چین سے متعلق امور پر چین کی مکمل حمایت کرتا ہے۔'
اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور دو ریاستی حل کی حمایت کی اور مغربی کنارے کی صورتِ حال پر تشویش کا بھی اظہار کیا۔
دونوں ممالک نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ چین۔افغانستان۔پاکستان سہ فریقی وزرائے خارجہ مکالمے اور چین۔بنگلہ دیش۔پاکستان تعاون کے نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے 'نئے نتائج' حاصل کیے جائیں گے۔






