انڈین سپریم کورٹ نے بغیر ٹرائل پانچ سال سے قید مسلم طلبہ کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی

16:185/01/2026, Pazartesi
جنرل6/01/2026, Salı
ویب ڈیسک
شرجیل امام (دائیں) اور عمر خالد (بائیں)
شرجیل امام (دائیں) اور عمر خالد (بائیں)

انڈیا کی سپریم کورٹ نے پیر کو ان دو مسلمان طلبہ کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی ہے جنہیں حکومت نے پانچ سال سے سازش کے مقدمے میں بغیر ٹرائل قید کر رکھا ہے۔

عمر خالد اور شرجیل امام کو پانچ سال قبل انڈیا کے سخت گیر 'اسٹیٹ سیکیورٹی' قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ ان دونوں طلبہ پر فروری 2020 میں دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکانے کی سازش کا الزام ہے۔

دہلی میں 2020 میں فرقہ وارانہ فسادات میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ یہ فسادات اس وقت ہوئے تھے جب دہلی میں 2019 کے شہریت قانون کے خلاف کئی مہینوں سے مظاہرے ہو رہے تھے۔ شہریت قانون کو ناقدین مسلمانوں کے خلاف امتیازی قرار دیتے تھے۔

پیر کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران انڈیا کی سپریم کورٹ نے پانچ دیگر نامزد ملزمان کو تو ضمانت دے دی مگر خالد اور امام کے بارے میں کہا کہ ان کا 'سازش میں مرکزی کردار ہے۔'

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کا کردار دوسرے ملزمان کی نسبت مختلف ہے جب کہ ٹرائل میں تاخیر ضمانت دینے کے لیے کافی وجہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام ایکٹیوسٹس ہیں جو شہریت قانون کے خلاف ملک گیر مظاہروں کی ایک نمایاں آواز تھے۔ ان مظاہروں کی وجہ سے نریندر مودی کی حکومت کو سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ان طلبہ کی حراست کو مودی حکومت کے دور میں تنقیدی آوازوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں انڈیا میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کو ایکٹیوسٹس اور طلبہ رہنماؤں کے خلاف استعمال کرنے پر تنقید بھی کرتی رہتی ہیں۔

دہلی فسادات کے چند ماہ بعد پولیس نے متعدد ایکٹیوسٹس اور مظاہروں کے منتظمین کو گرفتار کر کے ان پر غیر قانونی اقدامات کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے تھے۔ ان افراد میں خالد اور امام بھی شامل تھے۔ یہ قانون اس سے قبل صرف پرتشدد بغاوتوں کو کچلنے کے لیے استعمال ہوتا تھا تاہم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں اسے سیاسی مخالفین کی آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو بغیر ٹرائل تقریباً غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ اور جن ایکٹیوسٹس اور مخالف آرا رکھنے والوں کو اس قانون کے تحت قید رکھا گیا ہے، ان میں سے اکثر کئی برسوں سے بغیر ٹرائل کے ہی قید ہیں۔

درجنوں مسلمانوں کے خلاف فسادات سے متعلق اسی طرز کے مقدمات درج کر کے انہیں طویل عرصے تک حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سے بعض کیسز بعد میں اس وقت بے نقاب بھی ہوئے جب پولیس حراست میں موجود افراد کا تعلق فسادات سے جوڑنے کے لیے شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی۔

گزشتہ ہفتے، آٹھ امریکی قانون سازوں نے انڈیا کے واشنگٹن میں موجود سفیر کو خط لکھا جس میں خالد کی ٹرائل سے قبل ہی طویل قید پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ خط میں انڈین حکام پر زور دیا گیا کہ وہ شفاف اور بروقت ٹرائل یقینی بنائیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں بھی کئی بار خالد اور امام کی رہائی کا مطالبہ کر چکی ہیں اور ان کی قید کو مخالف آوازوں کو دبانے اور بنیادی قانونی تحفظ کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں۔

پچھلے سال ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ خالد کی بغیر ٹرائل قید انصاف کے راستے سے بھٹکنے کی مثال ہے۔ اور اس جبر کے اس وسیع پیٹرن کی علامت ہے جو آزادی اظہارِ رائے کا حق استعمال کرنے کی جرات کرنے والوں پر کیا جا رہا ہے۔

##انڈیا
##مسلم طلبہ
##انسانی حقوق