امریکہ کا وینزویلا پر حملہ: اب تک کیا معلومات سامنے آ چکی ہیں اور واشنگٹن کو وینزویلا سے مسئلہ کیا ہے؟

13:583/01/2026, Cumartesi
جنرل3/01/2026, Cumartesi
ویب ڈیسک
وینزویلا میں حملے کے بعد کے مناظر
وینزویلا میں حملے کے بعد کے مناظر

امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کر دیا ہے اور اس کے دارالحکومت میں کئی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر بیرونِ ملک منتقل کر دیا گیا ہے۔

امریکہ اور وینزویلا کے درمیان چپقلش کئی ہفتوں سے جاری تھی اور صدر ٹرمپ مسلسل وینزویلا پر دباؤ بڑھا رہے تھے۔ ہفتے کی صبح بالآخر وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں بڑے پیمانے پر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کر دی کہ حملہ امریکہ نے کیا ہے۔

ٹرمپ کا دعویٰ اور وینزویلا کی خاموشی

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ امریکہ نے وینزویلا کے خلاف 'بڑے پیمانے پر حملے' کیے ہیں اور اس کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ٹرمپ کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی نہ ہی وینزویلا نے اس کی تصدیق کی ہے۔ ٹرمپ نے بھی مزید تفصیلات نہیں بتائیں البتہ یہ کہا ہے کہ مزید معلومات پریس کانفرنس میں بتائی جائیں گی۔
وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کی ایک فائل فوٹو

تاہم امریکی حکام نے سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فوج کے خصوصی یونٹ ’ڈیلٹا فورس‘ نے اپنی حراست میں لیا ہے۔

ڈیلٹا فورس کو امریکی فوج میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کا اسپیشلسٹ یونٹ کہا جاتا ہے جو انتہائی خفیہ اور حساس کارروائیوں میں مہارت رکھتا ہے۔

وینزویلا کی حکومت کا ردعمل

وینزویلا کی حکومت نے اپنے سرکاری بیان میں امریکی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان کہا گیا ہے کہ 'وینزویلا امریکی حکومت کی جانب سے اس کی سرزمین پر کی گئی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو بین الاقوامی برادری کے سامنے مسترد کرتا ہے اور اس کی سخت مذمت کرتا ہے۔'

وینیزویلا نے امریکی حملوں کو اس کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے جب کہ ملک بھر میں قومی ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی ہے۔

وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے ملک کے صدر اور خاتونِ اول کے بارے میں لاعملی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وینزویلا کی حکومت کو صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اول سیلیا فلوریس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔

نائب صدر نے مطالبہ کیا کہ وینزویلا کو اس کے صدر اور خاتونِ اول کے زندہ ہونے کا ثبوت فراہم کیا جائے۔

وینزویلا کے وزیرِ دفاع نے ملک بھر میں فوجی دستوں کی فوری تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔ وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو لوپیز کا کہنا تھا کہ وینزویلا کو اپنی تاریخ کی 'بدترین جارحیت' کا سامنا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو کر مزاحمت کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ انہوں نے ہم پر حملہ کیا ہے، لیکن وہ ہمیں زیر نہیں کر سکیں گے۔

امریکہ کا وینزویلا کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

امریکہ کافی عرصے سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر منشیات اسمگلنگ کرنے والی ایک مبینہ تنظیم کی قیادت کر رہے ہیں۔ تاہم صدر مادورو نے ہمیشہ اِن الزامات کی تردید کی ہے۔

امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی کئی ماہ سے بڑھ رہی ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے کیریبین میں مبینہ طور پر منشیات لے جانے والی اسپیڈ بوٹس پر کئی حملے بھی کیے ہیں۔

امریکہ کا الزام ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو غیر قانونی طور پر منتخب کیا گیا اور وہ ذاتی طور پر ملک میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

دوسری جانب وینزویلا جو تیل سے مالا مال ایک ملک ہے، یہ دعویٰ کرتا ہے کہ امریکہ ان الزامات اور کارروائیوں کے ذریعے دراصل اس کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

وینزویلا کی حکومت کہتی ہے کہ واشنگٹن کے حالیہ اقدامات جن میں تیل کے ٹینکروں کی ضبطی بھی شامل ہے، صدر مادورو کو اقتدار سے ہٹانے اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

امریکہ نے وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر پانچ کروڑ ڈالر کا انعام بھی مقرر کیا تھا۔

##امریکہ
##وینزویلا
##حملہ