
وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کو آج یعنی بروز پیر امریکی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ان کی وینزویلا کی نئی عبوری لیڈر کے ساتھ نہ بنی تو دوبارہ حملے کا امکان بھی موجود ہے۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر وینزویلا اپنی تیل کی انڈسٹری کھولنے اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے میں تعاون نہیں کرتا تو وہ ایک اور حملے کا حکم دیں گے۔
امریکی صدر نے کولمبیا اور میکسیکو میں بھی فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے جب کہ کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے بوجھ تلے دب کر گرنے کے لیے تیار ہے۔

مدورو کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہیے جب وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کو نیویارک کی عدالت میں وفاقی جج کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ نکولس مدورو کو امریکی فوج نے ہفتے کو وینزویلا میں ایک فوجی آپریشن کے دوران حراست میں لے کر امریکہ منتقل کیا تھا۔
امریکہ کے اس اقدام پر بین الاقوامی برادری تضویض کا اظہار کر رہی ہے جب کہ وینزویلا میں لوگ غیریقینی کا شکار ہیں۔

مدورو پر منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کو سپورٹ کرنے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے صدر نے کوکین کی اسمگلنگ کے راستے متعین کیے اور اپنی فوج کے ذریعے ان کی ترسیل کی حفاظت کی، پرتشدد اسمگلنگ گروہوں کو پناہ دی اور بطور صدر حاصل اختیارات اور سہولتوں کو منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال کرتے رہے۔

'ہم انچارج ہیں'
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ 'ہم وہ واپس لے رہے ہیں جو انہوں نے ہم سے چرایا تھا۔ ہم انچارج ہیں۔'
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکی آئل کمپنیاں دوبارہ وینزویلا جائیں گی اور اس کی پیٹرولیم انڈسٹری کی تعمیرِ نو کریں گی۔ کمپنیاں اربوں ڈالر خرچ کریں گی اور زمین سے تیل نکالیں گی۔'
دوسری جانب وینزویلا میں مدورو کی حکومت اب بھی قائم ہے اور ملک کی نائب صدر نے عبوری رہنما کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ وینزویلا کے اعلیٰ حکام نے مزاحمت کے اشارے بھی دیے ہیں۔
نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا ہے کہ نکولس مدورو ہی صدر رہیں گے۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہیں۔
امریکی آپریشن پر سوالات
عالمی برادری میں گو کہ وینزویلا کے صدر مدورو کے دوست یا اتحادی کم ہی ہیں لیکن بہت سے ممالک نے امریکی آپریشن کی قانونی حیثیت اور کسی خود مختار ریاست کے سربراہ کو ایسے اٹھائے جانے پر سوالات اٹھائے ہیں اور امریکہ سے بین الاقوامی قوانین کے احترام کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کو معاملے پر اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بھی بلایا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکی آپریشن کو ایک خطرناک مثال قرار دیا ہے۔
امریکہ کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے کچھ رہنماؤں نے بھی صدر ٹرمپ کے اس اقدام پر تنقید کی ہے اور امریکی حملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔






