
امریکی نیوز ویب سائٹ 'ایگزیوس' نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران میں تیل کی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے پر اختلاف ہو گیا ہے اور واشنگٹن نے اس پر خدشات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایگزیوس نے معاملے سے آگاہ دو ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے ایران میں ہفتے کے روز 30 کے قریب آئل ڈپوز پر حملہ کیا جو امریکی حکام کی توقع سے کہیں زیادہ بڑا حملہ تھا۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے تیل کے ذخائر کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے ایرانی حکومت اپنی فوج اور دیگر خریداروں کو تیل فراہم کر رہی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق اسرائیل نے واشنگٹن کو اس حملے سے قبل مطلع کیا تھا لیکن اتنے بڑے پیمانے پر حملہ امریکہ کے لیے بھی حیران کن تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک مشیر کے مطابق 'صدر نے تیل کی تنصیبات پر حملوں کو پسند نہیں کیا۔ وہ تیل کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں جلانا نہیں۔ اور اس سے لوگوں کی توجہ تیل کی بڑھتی قیمتوں پر پڑے گی۔'
امریکی حکام کو تشویش ہے کہ ایسے انفراسٹرکچر جو ایرانی عوام کے کام آ رہے ہوں، ان پر حملے منفی نتائج دے سکتے ہیں اور ان سے ایرانی حکومت کی عوامی حمایت میں اضافہ ہوگا جب کہ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی۔

ایگزیوس کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ نشانہ بننے والی تنصیبات تیل کی پیداواری تنصیبات نہیں تھیں لیکن امریکی حکام کو ڈر ہے کہ اس بڑے پیمانے پر آگ کے مناظر توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا کریں گے۔
ایرانی حکام کی تنبیہ
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی انفراسٹرکچر پر اگر حملے جاری رہے تو ان کا جواب دیا جائے گا۔ جب کہ پیر کو بحرین کی سرکاری آئل ریفائنری پر حملہ بھی ہوا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران اب تک خطے میں توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے گریز کرتا آیا ہے لیکن اگر اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا تو تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالیباف نے بھی خبردار کیا کہ اگر انفراسٹرکچر پر حملے جاری رہے تو ایران بلاتاخیر ان کا جواب دے گا۔






