
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ جلد ختم ہونے کے بیان کے بعد منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ خام تیل کی قیمتیں جو پیر کو تین سال کی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی تھیں اور 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کو بھی عبور کر چکی تھیں، اب کچھ کم ہو کر 100 ڈالر فی بیرل سے کم ہو چکی ہیں۔
برینٹ آئل کی قیمت میں 4.2 فیصد یا 4 ڈالر کی کمی آئی ہے اور اب اس کے سودے 94.79 ڈالر فی بیرل پر وصول کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی قیمت بھی 90.96 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران جنگ کافی حد تک مکمل ہو چکی ہے اور واشنگٹن اپنے چار سے پانچ ہفتوں کے مقرر کردہ ہدف سے کافی آگے ہے۔

ٹرمپ کے جنگ ختم ہونے سے متعلق بیان پر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ ختم ہونے کا فیصلہ وہ کریں گے اور جب تک امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہیں گے، تہران ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں کرنے دے گا۔
قیمتوں میں کمی کی ایک وجہ امریکی اور روسی صدور کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہے۔ روسی حکام کے مطابق ٹرمپ اور پوتن کی گفتگو میں ایران جنگ کے جلد تصفیے کی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بعض اطلاعات کے مطابق ٹرمپ روسی تیل پر عائد پابندیاں نرم کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ تیل کی عالمی قیمتیں مستحکم رہ سکیں۔ اس کے علاوہ ِخام تیل کے ہنگامی ذخائر سے تیل فراہم کرنے کا معاملہ بھی زیرِ غور ہے۔
دوسری جانب جی سیون ممالک نے بھی پیر کو کہا ہے کہ وہ خام تیل کی قیمتوں کو کم رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہیں۔ تاہم جی سیون ملکوں کی جانب سے ہنگامی ذخائر کے استعمال کی جو توقع کی جا رہی تھی، اس کا اعلان نہیں کیا گیا۔






