پاکستان نے کابل سمیت کئی افغان علاقوں میں پھر بمباری کی ہے: افغان طالبان

09:2413/03/2026, جمعہ
جنرل13/03/2026, جمعہ
ویب ڈیسک
کابل کے علاقے پل چرخی میں لوگ متاثرہ مقام پر جمع ہیں۔
کابل کے علاقے پل چرخی میں لوگ متاثرہ مقام پر جمع ہیں۔

افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان کی عبوری حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے جمعرات کو ایک بار پھر فضائی حملے کیے ہیں جن میں عام شہری نشانہ بنے ہیں۔

طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ 'پاکستانی فوج نے جارحیت اور جرائم جاری رکھتے ہوئے ایک بار پھر کابل، قندھار، پکتیا، پکتیکا اور کچھ دیگر علاقوں میں بمباری کی۔'

طالبان ترجمان کے مطابق کچھ علاقوں میں شہریوں کے گھر تباہ ہوئے اور خواتین و بچے مارے گئے جب کہ کچھ مقامات پر خالی جگہوں پر حملے کیے گئے جہاں کچھ بھی نہیں تھا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے بعد ازاں ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ پاکستانی فوج نے قندھار ایئرپورٹ کے قریب نجی ایئرلائن 'کام ایئر' کے فیول ڈپو کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کمپنی سویلین ایئر لائنز کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کے طیاروں کو بھی ایندھن فراہم کرتی ہے۔ ترجمان کے بقول اس سے قبل حاجی خانزادہ نامی ایک تاجر کے فیول ڈپو کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ رمضان کے آخری عشرے اور عید کے قریب اس طرح کی 'ظالمانہ جارحیت' اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ کسی انسانی اصول اور اخلاقی اقدار کے پابند نہیں ہیں۔ انہوں نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ ظلم رائیگاں نہیں جائے گا۔'

دوسری جانب پاکستان کی فوج یا حکومت کی جانب سے ان حملوں سے متعلق فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم بعض صحافی سوشل میڈیا پر مختلف ذرائع سے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کر رہے ہیں کہ دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

تاہم وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے دو روز قبل افغانستان کے خلاف 'آپریشن غضب للحق' کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستانی فورسز کی کارروائیوں میں افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کارروائیوں میں 11 مارچ کی شام تک 641 جنگجو ہلاک، 855 زخمی ہو چکے ہیں جب کہ 243 چوکیاں تباہ اور 42 پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی گاڑیاں اور اہم عسکری اہداف تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا تھا۔


##افغانستان
##طالبان
##پاکستان