
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے تیل کے 10 جہاز گزار کر امریکہ کو تحفہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے بقول ان جہازوں پر پاکستان کا پرچم تھا جنہیں مذاکرات میں سنجیدگی اور نیک نیتی کے اظہار کے لیے گزرنے دیا گیا۔
امریکی صدر نے یہ گفتگو جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے دوران کی۔ اس سے قبل انہوں نے اپنے ایک بیان میں ایران کی طرف سے ایک 'تحفے' کا ذکر کیا تھا جس کی وضاحت انہوں نے اس اجلاس میں کی۔

ٹرمپ کے بقول 'انہوں نے کہا کہ آپ کو یہ یقین دلانے کے لیے کہ ہم (مذاکرات سے متعلق) کتنے سنجیدہ ہیں اور اپنی بات پر قائم ہیں، ہم آپ کو تیل کے آٹھ جہاز گزارنے دیں گے۔'
امریکی صدر کے بقول 'میں نے اس وقت اس پر زیادہ دھیان نہیں دیا۔ لیکن پھر میری نظر سے خبر گزری جس میں بتایا جا رہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے تیل سے لدے آٹھ بڑے جہاز گزر رہے ہیں۔ ان جہازوں پر پاکستان کا پرچم تھا۔ اس کے بعد دو اور جہاز گزارے گئے۔ اس طرح دس جہازوں پر بات ختم ہوئی۔'
ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں نے پھر سوچا کہ ٹھیک ہے، ہم صحیح لوگوں کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان جہازوں کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ان کی جانب سے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک 15 نکاتی منصوبہ تہران کو پیش کیا جا چکا ہے۔ اس منصوبے میں مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کھولنے اور نیوکلیئر پروگرام ختم کرنے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ نے جمعرات کو ہی ایران کے پاور گرڈ پر حملوں کو مزید 10 روز کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔






