
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کیوبا کے ساتھ جلد کوئی معاہدہ کر لے گا ورنہ کوئی اور ایکشن لیا جائے گا۔
اتوار کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا 'کیوبا بھی ڈیل کرنا چاہتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم یا تو جلد کوئی معاہدہ کر لیں گے ورنہ جو ہمیں کرنا ہوگا وہ کریں گے۔'
ٹرمپ کے بقول 'ہم کیوبا سے بات کر رہے ہیں لیکن اس سے پہلے ہم ایران سے نمٹیں گے۔'
امریکہ اور کیوبا کے درمیان کیا تنازع ہے؟
کیوبا امریکہ کے قریب واقع ایک جزیرہ نما ملک ہے جہاں کمیونسٹ نظام حکومت قائم ہے۔ امریکہ اور کیوبا کے تعلقات سات دہائیوں سے تناؤ کا شکار ہی رہے ہیں تاہم گزشتہ ایک برس میں ان میں زیادہ کشیدگی آئی ہے۔ دونوں ملکوں میں سیکیورٹی اور تارکینِ وطن کے معاملات کے علاوہ کئی تنازعات ہیں جب کہ کیوبا امریکی پابندیوں کا شکار ہونے کی وجہ سے سخت معاشی مشکلات میں بھی گھرا ہوا ہے۔
کیوبا کے صدر میگیل ڈیاز کانیل نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ یہ مذاکرات مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کرنے اور باہمی اختلافات کو کم کرنے کے لیے ہوں گے۔ کیوبن صدر نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات دونوں حریفوں کو ٹکراؤ سے دور کریں گے۔
ٹرمپ نے حالیہ چند ہفتوں میں کیوبا سے متعلق کئی بیانات میں کہا ہے کہ وہ ناکامی کے دہانے پر ہے اور امریکہ کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتا ہے۔ پیر کو انہوں نے کہا کہ کیوبا میں 'دوستانہ کنٹرول' بھی کیا جا سکتا ہے۔ پھر ٹرمپ نے کہا کہ 'شاید دوستانہ قبضہ نہ ہو۔'






