لائیو: ایرانی لیڈر شپ کونسل کا نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کے معاملے پر غور، امریکہ کا ایرانی ڈرون بردار بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ

08:586/03/2026, جمعہ
جنرل6/03/2026, جمعہ
ویب ڈیسک
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کا ڈرون بردار بحری جہاز تباہ کر دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کا ڈرون بردار بحری جہاز تباہ کر دیا ہے۔

اب تک کی اہم خبریں

  • ایران کے مشرقی علاقوں میں شدید دھماکے سنے گئے ہیں۔
  • اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے تہران میں 'بڑے پیمانے پر حملوں کی لہر' شروع کی ہے۔
  • ایرانی لیڈرشپ کونسل کے اجلاس میں رہبر اعلیٰ کے انتخاب کے معاملے پر غور
  • امریکی فوج کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر حملے کی ذمے داری ممکنہ طور پر امریکی فوج کی ہو سکتی ہے۔
  • امریکہ نے ایران کے ڈرون بردار جہاز سمیت 30 بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران کے ڈرون بردار بحری جہاز پر حملے کی ویڈیو

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ڈرون بردار بحری جہاز پر حملے کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ڈرون کیریئر کو تباہ کر دیا ہے۔ ویڈیو میں بحری بیڑے کو حملے کے بعد آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایرانی فوج نے اس حملے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

اس بحری جہاز کا نام شاہد بغیری ہے جسے ایران نے پچھلے سال فروری 2025 میں ہی متعارف کرایا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ دوسری جنگِ عظیم کے زمانے کے طیارہ بردار جہازوں کے برابر تھا۔

اس بحری بیڑے پر ڈرونز کی پرواز کے لیے 590 فٹ لمبا رن وے بھی تھا۔

===========================================================

ایران کے زیر زمین میزائل لانچرز پر بی ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے ہزار کلو وزنی بم گرائے: امریکی سینٹرل کمانڈ

امریکہ کا بی ٹو بمبار طیارہ جو انتہائی وزنی بم گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ امریکہ نے بی ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے ایران میں 2000 پونڈ (تقریباً ایک ہزار کلو) وزنی بم گرا کر تہران کے زیرِ زمین بیلسٹک میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا ہے۔

جمعرات کو اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ 72 گھنٹوں میں امریکی بمبار فورس نے ایران میں 200 سے زیادہ اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ ان کے بقول ایرانی نیوی کے خلاف آپریشنز بھی تیز کر دیے گئے ہیں۔

بریڈ کوپر کا کہنا تھا کہ 'آپ نے صدر سے سنا ہوگا کہ ہم نے 24 جہاز ڈبو دیے ہیں۔ اس وقت وہ ٹھیک تھا۔ اب ہم 30 جہاز ڈبو چکے ہیں،'

===========================================================

تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو بڑھنے دو، مجھے کوئی پروا نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ ایران میں جنگ کی وجہ سے امریکہ میں تیل کی بڑھتی قیمتوں پر فکرمند نہیں ہیں۔ ان کی ترجیح فوجی کارروائی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب ان سے فیول کی بڑھتی قیمتوں پر سوال کیا گیا ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا 'مجھے اس کی پروا نہیں۔ جنگ ختم ہوگی تو قیمتیں اتنی ہی تیزی سے نیچے بھی آ جائیں گی۔ اور اگر بڑھتی ہیں تو بڑھنے دو۔ لیکن یہ (ایران جنگ) تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافے سے کہیں اہم معاملہ ہے۔'

واضح رہے کہ پچھلے ماہ اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ٹرمپ نے تیل کی قیمتوں میں کمی کا چرچا کیا تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے ٹرمپ کو مڈ ٹرم انتخابات میں نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے کیوں کہ امریکی ووٹر پہلے ہی ملک میں مہنگائی سے پریشان ہیں۔

واضح رہے کہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 16 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جس کے اثرات پیٹرول و ڈیزل کی قیمت میں اضافے کی صورت میں عام شہریوں پر بھی آئیں گے۔

انٹرویو میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ پراعتماد ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی۔ کیوں کہ ان کے بقول ایرانی نیوی 'سمندر کی گہرائیوں میں' ڈوب چکی ہے۔

===========================================================

ایران کے مشرقی علاقوں میں 'شدید دھماکے'، تہران پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے ہیں: اسرائیلی فوج

تہران کے ایک مصروف مقام 'انقلاب چوک' کا ایک منظر جہاں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود زندگی رواں ہے۔
اسرائیلی فوج نے جمعے کی صبح جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران میں 'بڑے پیمانے پر حملوں کی لہر' شروع کر دی ہے۔

دوسری جانب عینی شاہدین نے ایران کے مشرقی علاقوں میں بڑے دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے اس قدر زور دار تھے کہ لوگوں کو اپنے گھر لرزتے محسوس ہوئے۔

جمعے کی صبح عراق کی سرحد کے قریب واقع ایرانی شہر کرمان شاہ میں بھی دھماکے سنے گئے۔

کرمان شاہ اور اس کے اطراف کے علاقے پر مستقل فضائی حملے کیے جا رہے ہیں کیوں کہ یہاں ایران کے میزائل اڈے اور ریڈار وغیرہ موجود ہیں۔

===========================================================

ایرانی لیڈرشپ کونسل کی بیٹھک، نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کے معاملے پر غور
ایران کی لیڈرشپ کونسل کے ارکان

ایران کے سرکاری ٹی وی نے جمعے کو رپورٹ کیا ہے کہ لیڈرشپ کونسل کا اجلاس ہوا ہے جس میں نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کے لیے مجلسِ خبرگان رہبری کا اجلاس بلانے پر گفتگو کی گئی۔

مجلسِ خبرگان رہبری ایرانی علما پر مشتمل وہ ادارہ ہے جو رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کرتا ہے۔ جب کہ لیڈرشپ کونسل میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اور ایک مذہبی رہنما آیت اللہ علی رضا عرافی شامل ہیں۔ یہ لیڈرشپ کونسل آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب تک ملک کے اہم ترین فیصلوں کی ذمے دار ہے۔

ایرانی میڈیا کی جانب سے مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں کہ لیڈرشپ کونسل نے اجلاس میں کیا فیصلے لیے اور نہ ہی رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کی کوئی ٹائم لائن سامنے آئی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ مجلس خبرگان رہبری کا اجلاس اگر ہوا تو کیا تمام 88 علما ایک جگہ اکٹھے ہوں گے یا آن لائن ووٹ کریں گے۔ کیوں کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں اس ادارے کی عمارت کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

===========================================================

'ایران میں اسکول پر حملے کی ذمے داری ممکنہ طور پر امریکی فوج پر عائد کی جا سکتی ہے'

ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر فضائی حملے کی ذمے داری کا تعین کرنے کے لیے امریکہ میں جاری تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کی ذمے داری ممکنہ طور پر امریکی فورسز پر عائد ہو سکتی ہے۔ تاہم امریکی فوج کے تحقیق کار فی الحال ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔

امریکہ کے دو اعلیٰ عہدے داروں نے خبر رساں ادارے ' رائٹرز' کو بتایا ہے کہ تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہیں، اس لیے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم قرائن یہ بتا رہے ہیں کہ اس کارروائی کی ذمے داری امریکی فورسز پر عائد کی جا سکتی ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بدھ کو تصدیق کی تھی کہ امریکی فوج اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے جس میں 165 کے قریب کم عمر ایرانی طالبات ماری گئیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے ان عہدے داروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سطح پر یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ ایسے نئے شواہد یا ثبوت سامنے آ جائیں جو امریکی فوج کو اس عمل سے بری قرار دیتے ہوں یا کسی اور ذمے دار کی نشان دہی کرتے ہوں۔

فی الحال بہت سے سوالوں کے جواب ملنا ابھی باقی ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ تحقیقات کب تک جاری رہیں گی۔ تاہم رائٹرز نے وائٹ ہاؤس سے جب اس معاملے پر سوال کیا گیا تو وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایک بیان میں کہا کہ 'اگرچہ محکمۂ جنگ اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے، لیکن ایرانی حکومت شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہی ہے، امریکہ نہیں۔'

واضح رہے کہ جان بوجھ کر اسکول، اسپتالوں یا شہری انفراسٹرکچر پر حملے کرنا بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرم ہے۔

##ایران
##امریکہ
##اسرائیل
##جنگ