
ایران نے گزشتہ روز کئی بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں جس کے بعد خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی سے بڑھ گئی ہیں جب کہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
بدھ کو ایرانی کشتیوں نے عراقی پانیوں میں موجود دو بحری آئل ٹینکروں پر حملے کیے جس کے بعد ان میں آگ لگ گئی اور عملے کا ایک رکن ہلاک ہو گیا۔ پورٹس اور میری ٹائم سیکیورٹی کے مطابق گزشتہ روز خلیجی پانیوں میں بھی چار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
حالیہ حملے امریکہ اور یورپ سے تعلق رکھنے والے جہازوں پر ہوئے ہیں جس کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 16 جہازوں پر حملے ہو چکے ہیں۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اگر امریکی اور اسرائیلی حملے نہ رکے تو وہ آبنائے ہرمز سے 'ایک لیٹر تیل بھی' نہیں گزرنے دیں گے۔ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر تیل کی برآمدات روکی گئیں تو وہ ایران پر زیادہ شدت کے حملے کریں گے۔ ٹرمپ نے آئل کمپنیوں کو ترغیب دی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کا استعمال کریں کیوں کہ ان کے بقول ایران کی نیوی کو ختم کر دیا گیا ہے۔
بدھ کی رات دو جہازوں پر حملے عراق کے قریب ہوئے ہیں اور نشانہ بننے والے جہازوں پر مارشل آئی لینڈز اور مالٹا کے جھنڈے تھے۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ان جہازوں نے عراق سے آئل لوڈ کیا تھا۔
عراق کے آئل پورٹس بند
ان جہازوں پر حملوں کے بعد عراق کی تیل کی بندرگاہوں پر آپریشنز بند کر دیے گئے ہیں جب کہ کمرشل بندرگاہیں کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عراق میں بندرگاہوں کا انتظام دیکھنے والی سرکاری کمپنی 'جنرل کمپنی فور پورٹس آف عراق' کا کہنا ہے کہ اس کی کشتی نے دونوں جہازوں کے عملے کے 25 ارکان کو ریسکیو کیا جب کہ دونوں جہازوں میں آگ ابھی تک بھڑک رہی ہے۔ عراقی ریسکیو ٹیمیں عملے کے مزید ارکان کی تلاش کر رہی ہیں۔
پورٹ کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ ایک غیر ملکی رکن کی لاش سمندر سے برآمد ہوئی ہے۔
جہازوں کی مالک امریکی کمپنیوں نے فی الحال کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی تنبیہ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بارہا خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
گزشتہ روز آبنائے ہرمز کے قریب ایک اور سامان بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا جس پر تھائی لینڈ کا پرچم موجود تھا۔ یہ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ حملے کے بعد جہاز کے انجن روم میں آگ لگ گئی۔
جہاز کی آپریٹر شپنگ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کے عملے کے تین ارکان لاپتا ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ انجن روم میں پھنسے ہو سکتے ہیں۔ کمپنی متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر انہیں ریسکیو کرنے پر کام کر رہی ہے۔
کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ باقی 20 اراکین پر مشتمل عملے کو جہاز سے بحفاظت نکال کر عمان منتقل کر دیا گیا۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی پر جاری پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق اس جہاز پر 'ایرانی جنگجوؤں نے حملہ کیا۔'
اس کے علاوہ بدھ کو مزید تین جہازوں پر حملے ہوئے ہیں تاہم انہیں معمولی نقصان پہنچا ہے۔ یہ جہاز خلیجی پانیوں میں موجود تھے۔
امریکی بحریہ تحفظ فراہم کرنے سے گریزاں
دوسری جانب امریکی صدر جہازوں کو گزرنے کی ترغیب تو دیتے نظر آئے ہیں تاہم امریکی بحریہ جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے سے معذرت کر رہی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اسے دو ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی بحریہ کو روز شپنگ انڈسٹری کی جانب سے درخواستیں موصول ہو رہی ہیں کہ جہازوں کو حفاظی حصار میں لے کر نکالا جائے جنہیں بحریہ یہ کہہ کر مسترد کر رہی ہے کہ ابھی خطرہ بہت زیادہ ہے۔
حالاں کہ ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ بوقت ضرورت جہازوں کو نیوی کا تحفظ دینے کے لیے تیار ہے۔
تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ
بحری جہازوں پر گزشتہ روز ہوئے حملوں کے بعد جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں نے ایک بار پھر چھلانگ لگائی ہے اور دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہو گئی ہیں جب کہ دوسری جانب اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی جا رہی ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت اضافے کے بعد 100.22 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے جب کہ امریکی کروڈ کی قیمت 95 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے۔






