خلیجی ملکوں کی گیس تنصیبات پر حملے: برطانیہ سمیت یورپی ملکوں میں گیس کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

13:5119/03/2026, جمعرات
جنرل19/03/2026, جمعرات
ویب ڈیسک
قطر کی گیس فیلڈ (فائل فوٹو)
قطر کی گیس فیلڈ (فائل فوٹو)

قطر کے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے مرکز پر بدھ کو ایران کے حملوں کے بعد یورپی یونین میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ یورپی ملکوں میں گیس کی قیمتیں جنوری 2023 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

جمعرات کو ایک موقع پر یورپی قدرتی گیس کی قیمتیں 25 فیصد سے زائد بڑھ کر تقریباً 78 ڈالر فی میگاواٹ گھنٹہ تک جا پہنچی جو تین سال سے زائد عرصے کی سب سے بلند سطح ہے۔

بدھ کو ایران نے قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی پر حملے کیے جو دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی کا برآمدی مرکز ہے۔ میزائل حملوں کے نتیجے میں قطر کے راس لفان ایل این جی کمپلیکس کے کچھ حصوں میں آگ بھڑک اٹھی، جس سے دنیا کے بڑے گیس مراکز میں سے ایک کو نقصان پہنچا۔

متحدہ عرب امارات نے بھی میزائل گرانے کے بعد اپنے حبشان گیس مرکز پر کام روک دیا جب کہ بحرین کے ایل این جی اثاثوں پر بھی شدید میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں۔

دنیا بھر میں ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد ترسیل عام طور پر آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہے جو 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے بڑی حد تک بند ہے۔

دوسری جانب برطانیہ میں بھی قدرتی گیس کی قیمتیں 140 فیصد تک بڑھ چکی ہیں کیوں کہ ایران کے خلاف اسرائیل-امریکہ جنگ نے عالمی توانائی کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔ برطانیہ میں بھی قیمتیں جنوری 2023 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچی ہیں۔

برطانیہ توانائی کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور قطر سے آنے والی گیس پر۔

##برطانیہ
##یورپی یونین
##گیس