مجتبیٰ خامنہ ای، ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کون ہیں؟

09:129/03/2026, Pazartesi
جنرل9/03/2026, Pazartesi
ویب ڈیسک
مجتبیٰ خامنہ ای
مجتبیٰ خامنہ ای

ایران نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے جانشین کے طور پر سامنے آئے ہیں اور مجلسِ خبرگان رہبری نے انہیں ملک کا نئے رہبرِ اعلیٰ بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔

ایران کے نو منتخب رہبر اعلیٰ کے نام کے اعلان سے متعلق مجلسِ خبرگان رہبری (جو سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے) کا بیان سرکاری ٹی وی پر سنایا گیا جس میں کہا گیا کہ 'شدید جنگی حالات، دشمنوں کی براہِ راست دھمکیوں اور سیکریٹریٹ کے دفاتر پر بمباری کے نتیجے میں عملے اور سیکیورٹی ٹیم کے کئی اراکین کی اموات کے باوجود اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور تعارف کے عمل میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہیں ہوئی۔'

مجتبیٰ خامنہ ای کا تیسرے سپریم لیڈر کے طور پر انتخاب امریکہ و اسرائیل کے لیے ایک واضح پیغام ہے جو ان کی مخالفت کر رہے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی مجتبیٰ خامنہ ای کو 'ناقابل قبول قرار دے چکے ہیں جب کہ اسرائیل کی جانب سے یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ وہ اگلی قیادت کو بھی نشانہ بنائیں گے۔

اب ایران میں طاقت کا محور 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای ہیں۔ ملک کی طاقت ور فوج پاسدارانِ انقلاب اور مسلح افواج نے مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان سے وفاداری کی بیعت کی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای، ایک پسِ پردہ مگر اہم کردار

مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی طرح زیادہ منظرِ عام پر نہیں رہے نہ ہی انہوں نے کبھی کوئی سرکاری یا عوامی عہدہ رکھا ہے۔ وہ کچھ ریلیوں میں تو نظر آتے رہے ہیں لیکن کبھی ان کی جانب سے ان ریلیوں میں کوئی باضابطہ تقریر بھی نہیں کی گئی۔

تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کا شمار ایران کی انتہائی بااثر اور پسِ پردہ رہنے والی شخصیات میں ہوتا ہے۔ مجتبیٰ کو اپنے والد کا 'سایہ' بھی قرار دیا جاتا ہے اور بعض حلقے تو یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ آیت اللہ علی خامنہ ای تک پہنچنے کا راستہ مجتبیٰ سے ہو کر گزرتا تھا۔

سن 1969 میں مشہد میں پیدا ہونے والے مجتبیٰ، آیت اللہ علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے اپنی ثانوی تعلیم تہران کے مذہبی علوی سکول سے حاصل کی۔

بعد ازاں انہوں نے اپنی دینی تعلیم کا سلسلہ سینیئر علما کی زیر نگرانی مکمل کیا۔ انہوں نے قم کے مدارس میں تعلیم حاصل کی جسے ایران میں شیعت کی تعلیم و ترویج کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای حجتہ الاسلام کا ٹائٹل رکھتے ہیں تاہم سپریم لیڈر بننے کے بعد اب وہ آیت اللہ کہلائیں گے۔

وہ ایران کی طاقت ور پاسدارانِ انقلاب سے بھی قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ ہائی اسکول سے فراغت کے فوراً بعد مجتبیٰ اس فورس میں شامل ہو گئے تھے اور ایران عراق جنگ میں بھی حصہ لیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صرف 17 سال کی عمر میں مجتبیٰ نے ایران عراق جنگ کے دوران کئی بار مختصر مدت کے لیے فوج میں خدمات انجام دیں۔

ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کا سیکیورٹی فورسز اور کاروباری حلقوں میں بھی خاصا اثر و رسوخ ہے اور وہ ایک بڑی کاروباری سلطنت کو کنٹرول کرتے آئے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا شمار ان سخت گیر حلقوں میں ہوتا ہے جو جوہری معاملات پر مغربی ملکوں کے ساتھ رابطوں کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔

ان کے بارے میں کئی حلقے یہ خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ مجتبیٰ اپنے والد کی سخت گیر پالیسیوں کو آگے بڑھائیں گے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں صرف مجتبیٰ کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جان نہیں گئی بلکہ انہوں نے والدہ، اہلیہ اور کئی قریبی ساتھیوں کو بھی کھویا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی پر ٹرمپ کا ردعمل

ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کے نام کا اعلان ہونے کے بعد امریکی صدر نے 'ٹائمز آف اسرائیل' کو دیے گئے انٹرویو کے دوران اس معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا۔ اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے بس اتنا کہا کہ 'ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔'

ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو میں مزید کہا کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ باہمی مشاورت سے ہوگا اور مشترکہ فیصلہ ہوگا۔

##ایران
##اسرائیل
##مجتبیٰ خامنہ ای