
ترکیہ نے ایک بار پھر پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کی پیش کش کی ہے جب کہ دونوں فریقین کے درمیان جھڑپیں جمعرات کو ساتویں روز میں داخل ہو گئی ہیں۔
افغانستان نے پچھلے جمعرات کو پاکستان کے فضائی حملوں کے جواب میں سرحد پر جوابی حملے کیے تھے جس کے بعد سے دونوں ملکوں کی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور پاکستانی فوج افغانستان میں مختلف اہداف پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
ان حالات میں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بدھ کو پیش کش کی ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوبارہ جنگ بندی کے لیے ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ترک صدر کا پاکستانی وزیرِ اعظم سے رابطہ اور ثالثی کی پیش کش
ترکیہ کی صدارتی دفتر سے جاری بیان کے مطابق صدر ایردوان نے پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور 'پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کی ہے۔' ترک صدر نے یہ پیغام بھی دیا کہ انقرہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا اور اسلام آباد و کابل کے درمیان جنگ بندی دوبارہ قائم کرانے کے لیے بھی کردار ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور طالبان فورسز کی گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد بھی قطر اور ترکیہ نے جنگ بندی کرائی تھی۔ تاہم جنگ بندی کے بعد دونوں فریقین کے درمیان ترکیہ میں مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے جو بے نتیجہ ختم ہوئے تھے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق شہباز شریف نے صدر ایردوان کی پیش کش کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا تاہم دونوں رہنماؤں نے 2611 کلو میٹر طویل پاک - افغان بارڈر پر کشیدگی کے معاملے پر تبادلۂ خیال کیا۔ دوسری جانب پاکستان کی حکومت کی جانب سے دونوں رہنماؤں کے رابطے سے متعلق جو معلومات جاری کی گئیں ان میں بھی جنگ بندی کی پیش کش کا ذکر نہیں کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے حالیہ پیش رفتوں پر بات چیت کی اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کی باہمی کوششوں کے لیے رابطے برقرار رکھنے کا ارادہ کیا۔
صدر ایردوان کی اس تجویز پر افغان طالبان کی حکومت کی جانب سے بھی فی الحال کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔
پاکستانی آرمی چیف کا بیان
تاہم بدھ کو ہی پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا بھی ایک اہم بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن کا دارومدار افغان طالبان کے پاکستان میں حملے کرنے والے دہشت گردوں سے دوری اختیار کرنے پر ہے۔ آرمی چیف نے تنبیہ کی کہ پاکستان افغان سرزمین سے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے یہ گفتگو وانا کے علاقے کا دورہ کرتے ہوئے کی۔ وانا افغانستان کی سرحد سے متصل پاکستانی علاقہ ہے جو کبھی کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا مضبوط گڑھ تھا۔
پاکستانی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس موقع پر جنرل عاصم منیر نے مزید کہا کہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستان میں حملوں کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ 'دونوں اطراف امن تب ہی قائم ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت سے پیچھے ہٹیں۔'
پچھلے ہفتے ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے بھی افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے رابطہ کیا تھا اور دونوں رہنماؤں نے سرحد پر تناؤ کی صورتِ حال پر گفتگو کی تھی۔ تاہم اس کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
البتہ پاکستان یہ واضح کر چکا ہے کہ جب تک افغان طالبان کی حکومت اپنی سرزمین استعمال ہونے سے روکنے کے لیے دہشت گردوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات نہیں کرتی، پاکستان فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
پاکستان بارہا یہ دعویٰ کرتا آیا ہے کہ کابل اپنی سرزمین پر ٹی ٹی پی کو پناہ دیے ہوئے ہے اور وہ افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گرد حملے کرتی ہے۔ تاہم افغان طالبان کی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیتے۔






