
ایران کے ساتھ جنگ میں اب تک امریکہ کے کتنے اخراجات ہو چکے ہیں؟ اس بارے میں امریکی کانگریس کے اراکین کو دی گئی بریفنگ کی کچھ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے اپنے ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں نے رواں ہفتے کانگریس کو ایک بریفنگ میں جنگ کے مالی اخراجات کا تخمینہ پیش کیا جس کے مطابق صرف ابتدائی چھ دن میں امریکہ کے 11.3 ارب ڈالر کے اخراجات ہوئے۔
یہ عدد منگل کو امریکی سینیٹرز کو دی گئی ایک خفیہ بریفنگ میں سامنے آیا لیکن یہ جنگ کے مکمل اخراجات نہیں ہیں۔ اصل اخراجات اب اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں کیوں کہ جنگ اب 13 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔
11.3 ارب ڈالر کا عدد سب سے پہلے امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' کی طرف سے رپورٹ کیا گیا۔ امریکی حکومت نے اب تک عوامی سطح پر جنگ کے اخراجات کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ نہ ہی حکومت نے کوئی دورانیہ واضح کیا ہے کہ جنگ کب تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
ٹرمپ حکومت کے عہدے داروں نے قانون سازوں کو یہ بھی بتایا کہ صرف ابتدائی دو دن کے حملوں میں 5.6 ارب ڈالر کے ہتھیار خرچ ہو گئے تھے۔
کانگریس کے بعض اراکین کا کہنا ہے کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے جلد کانگریس کو جنگ کے لیے اضافی فنڈز فراہم کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ بعض حکام کے مطابق 50 ارب ڈالر تک کی فنڈنگ مانگی جا سکتی ہے۔
گزشتہ روز ٹرمپ نے ریاست کینٹکی کے دورے میں دعویٰ کیا کہ 'ہم جنگ جیت چکے ہیں' مگر امریکہ کام ختم ہونے تک لڑائی جاری رکھے گا۔
اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف 13 روز سے جاری جنگ میں اب تک 2000 کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ زیادہ تر جانی نقصان ایران اور لبنان میں ہوا ہے۔
کانگریس کے اراکین نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ یہ تنازع امریکی فوج کے ہتھیاروں کے ذخائر کو ایک ایسے وقت میں ختم یا کمزور کر سکتا ہے جب دفاعی صنعت پہلے ہی طلب پوری نہیں کر پا رہی۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے سات دفاعی کنٹریکٹرز کے حکام سے بھی ملاقات کی ہے۔
ٹرمپ کی حریف جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حلفیہ طور پر بتائے کہ صدر کا جنگ کے خاتمے کا کیا منصوبہ ہے، یہ تنازع کتنا طویل ہو سکتا ہے اور جنگ ختم ہونے کے بعد امریکی حکومت ایران کے بارے میں کیا سوچ رکھتی ہے؟






