متحدہ عرب امارات کے بعد سعودی عرب کی جانب سے بھی ایران پر جوابی حملوں کا انکشاف

10:2913/05/2026, Çarşamba
جنرل13/05/2026, Çarşamba
ویب ڈیسک
سعودی لڑاکا طیاروں کی ایک فائل فوٹو
سعودی لڑاکا طیاروں کی ایک فائل فوٹو

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران سعودی عرب نے بھی خفیہ طور پر ایران پر متعدد حملے کیے جو تہران کی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔

رائٹرز کے مطابق اسے معاملے سے آگاہ دو مغربی اور دو ایرانی عہدے داروں نے سعودی عرب کی جانب سے حملوں کا بتایا ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے ایران پر حملوں سے متعلق خبر پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آئی ہے اور یہ پہلا موقع ہے جب سعودی عرب کی جانب سے براہِ راست ایرانی سرزمین پر حملوں کی کوئی اطلاع آئی ہے۔ ماضی میں سعودی عرب اور ایران طویل عرصے تک ایک دوسرے کے سخت حریف رہے ہیں لیکن 2023 میں چین کی ثالثی سے دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہو گئے تھے۔

دو مغربی عہدے داروں نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی ایئرفورس کی جانب سے حملوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ مارچ کے اواخر میں کیے گئے۔ ان میں سے ایک عہدے دار کا کہنا تھا کہ یہ حملے ایران کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد جوابی کارروائی کے طور پر کیے گئے تھے۔

تاہم رائٹرز یہ تصدیق نہیں کر سکا کہ سعودی عرب کی جانب سے کن مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

رائٹرز کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر عہدے دار سے اس معاملے پر مؤقف کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم ان کی جانب سے براہِ راست اس معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا گیا کہ حملے کیے گئے ہیں یا نہیں۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے بھی معاملے پر کوئی رائے نہیں دی۔

حملوں کے بعد کشیدگی میں کمی

ایرانی اور مغربی عہدے داروں کے مطابق سعودی عرب نے ایران کو حملوں کے بارے میں پہلے سے آگاہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ سفارتی رابطے ہوئے اور سعودی عرب کی جانب سے مزید جوابی کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق ہوا۔

یہ مفاہمت اسی دوران ہوئی جب بعد ازاں واشنگٹن اور تہران نے سات اپریل کو وسیع تر جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ایک ایرانی عہدے دار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران اور ریاض کشیدگی کم کرنے پر متفق ہوئے تھے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد 'دشمنی ختم کرنا، باہمی مفادات کا تحفظ اور تناؤ کو مزید بڑھنے سے روکنا تھا۔'

بحیرۂ احمر جہاز رانی کے لیے کھلا رہنے کے باعث سعودی عرب تنازع کے دوران بھی اپنی تیل برآمدات جاری رکھنے میں کامیاب رہا جب کہ خلیجِ فارس کے بیش تر دیگر ممالک ایسا نہ کر سکے۔ اسی لیے سعودی عرب اس جنگ میں نسبتاً کم متاثر ہوا۔

ایران نے سعودی عرب پر براہِ راست حملے محدود کر دیے: ذرائع

مغربی ذرائع کے مطابق مارچ کے اختتام تک سفارتی رابطوں اور سعودی عرب کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی طرح سخت مؤقف اختیار کرنے اور مزید جوابی کارروائیوں کی دھمکیوں کے بعد ریاض اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے پر ایک مفاہمت طے پائی۔

رائٹرز کی جانب سے سعودی وزارتِ دفاع کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 25 سے 31 مارچ کے دوران سعودی عرب پر 105 سے زائد ڈرون اور میزائل حملے ہوئے۔ تاہم یکم سے چھ اپریل کے درمیان یہ تعداد کم ہو کر صرف 25 سے کچھ زیادہ رہ گئی۔

مغربی ذرائع کے مطابق وسیع تر جنگ بندی سے قبل سعودی عرب پر داغے گئے میزائل اور ڈرون غالباً ایران کے بجائے عراق سے فائر کیے گئے تھے جس سے اشارہ ملتا ہے کہ تہران نے براہِ راست حملے محدود کر دیے تھے جبکہ اس کے اتحادی گروہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔

12 اپریل کو سعودی عرب نے عراقی سرزمین سے ہونے والے حملوں پر احتجاج کرتے ہوئے عراق کے سفیر کو طلب کیا۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان رابطے اس وقت بھی جاری رہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان وسیع تر جنگ بندی کے آغاز پر کشیدگی دوبارہ سامنے آئی۔ کیوں کہ سعودی وزارتِ دفاع نے سات اور آٹھ اپریل کو مملکت پر 31 ڈرونز اور 16 میزائل داغے جانے کی اطلاع دی تھی۔

ان حملوں میں اضافے کے بعد ریاض نے ایران اور عراق کے خلاف جوابی کارروائی پر غور کیا جب کہ پاکستان نے سعودی عرب کو یقین دہانی کرانے کے لیے لڑاکا طیارے تعینات کیے اور سفارتی کوششوں کے ساتھ تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی حملوں کا انکشاف

سعودی عرب کی جانب سے حملوں کی اطلاع اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع خاصا پھیل چکا ہے اور اس کے کئی پہلو اب تک پوری طرح منظرِ عام پر نہیں آئے۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے تمام چھ ممالک کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں نہ صرف امریکی فوجی اڈے بلکہ شہری تنصیبات، ہوائی اڈے اور تیل کا انفراسٹرکچر بھی نشانہ بنا جب کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے عالمی تجارت کو بھی دھچکا پہنچایا۔

پیر کو ایک امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی ایران پر حملوں کا انکشاف کیا ہے۔ تاہم اس تنازع کے دوران امارات اور سعودی عرب کا طریقۂ کار مختلف رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے ایران کے خلاف زیادہ سخت مؤقف اختیار کیا اور تہران کے ساتھ سفارت کاری کا عمل بہت محدود کر دیا۔ جب کہ سعودی عرب نے کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی اور ایران کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا۔ ریاض میں تعینات ایرانی سفیر کے ذریعے بھی بات چیت جاری رکھی گئی۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدے دار نے اس بات کی براہِ راست تصدیق نہیں کی کہ آیا ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کا کوئی معاہدہ ہوا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ 'سعودی عرب اپنے مستقل مؤقف کا اعادہ کرتا ہے کہ خطے اور اس کے عوام کے استحکام، سلامتی اور خوش حالی کے لیے کشیدگی میں کمی، تحمل اور ضبط ضروری ہے۔'

#سعودی عرب
#متحدہ عرب امارات
#مشرق وسطی
#تہران
#ایران
#خلیج تعاون کونسل
#علاقائی کشیدگی