
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے چائنہ کا اہم دورہ کریں گے۔ دو روزہ دورے سے متعلق امریکی حکام کو امید ہے کہ اس میں ایران، تائیوان، مصنوعی ذہانت، جوہری ہتھیاروں سمیت کئی اہم معاملات زیرِ بحث آئیں گے اور معدنیات کے معاہدے پر بھی کوئی پیش رفت ہونے کا امکان ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ بدھ کو بیجنگ پہنچیں گے جب کہ جمعرات اور جمعے کو ان کی ملاقاتیں ہوں گی۔ یہ 2017 کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا دورۂ چین ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی چھ ماہ سے زائد عرصے کے بعد پہلی بالمشافہ ملاقات ہوگی۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، ایران جنگ اور کئی دیگر معاملات پر بڑے اختلافات ہیں جنہیں حل کرنے کی کوششوں کے لیے اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
طیاروں، زراعت اور تجارت سے متعلق معاہدے
اس دورے میں امریکہ اور چائنہ کے درمیان باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے مختلف فورمز پر اتفاق متوقع ہے۔ جب کہ چینی حکام کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بوئنگ طیاروں، امریکی زرعی مصنوعات اور توانائی سے متعلق خریداریوں کا اعلان کریں گے۔
حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان 'بورڈ آف ٹریڈ' اور 'بورڈ آف انویسٹمنٹ' کے قیام کا باضابطہ اعلان بھی متوقع ہے۔ اگرچہ ان اداروں کے عملی نفاذ کے لیے مزید کام درکار ہوگا۔
دونوں ممالک اس تجارتی جنگ بندی میں توسیع پر بھی بات کریں گے جس کے تحت چین سے امریکہ کو نایاب معدنیات کی فراہمی جاری ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ معاہدے میں اسی ہفتے توسیع ہوگی یا نہیں۔
ایک امریکی عہدے دار نے اس امید کا اظہار کیا کہ گزشتہ خزاں میں طے پانے والا یہ معاہدہ بالآخر توسیع پا جائے گا۔ تاہم واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
تائیوان، جوہری ہتھیار، ایران اور اے آئی جیسے حساس معاملات
ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں ایسے معاملات بھی زیرِ بحث آنے کی توقع ہے جو طویل عرصے سے امریکہ اور چائنہ کے درمیان کشیدگی کا باعث رہے ہیں۔ ان میں ایران، تائیوان اور جوہری ہتھیاروں کے معاملات شامل ہیں۔
چائنہ ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے اور ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے۔ صدر ٹرمپ چائنہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ تہران کو واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے اور جنگ ختم کرنے پر آمادہ کرے جو فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔
امریکی انتظامیہ نے روس کے ساتھ چائنہ کے تعلقات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب، شی جن پنگ واشنگٹن سے تائیوان کے معاملے پر ناخوش ہیں۔ امریکہ جمہوری طرزِ حکومت رکھنے والے جزیرے تائیوان کا سب سے بڑا بین الاقوامی حامی اور اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے۔ جب کہ بیجنگ اسے اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔
چائنہ نے حالیہ برسوں میں تائیوان کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مشیروں نے چائنہ میں تیار ہونے والے جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر بڑھتی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا ایک مستقل چینل ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی ممکنہ تنازع سے بچا جا سکے۔
امریکہ طویل عرصے سے چائنہ کے ساتھ جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات کا بھی خواہاں رہا ہے۔ لیکن بیجنگ اب تک اپنے جوہری ذخیرے پر بات چیت سے گریز کرتا آیا ہے۔
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی آخری ملاقات اکتوبر 2025 میں جنوبی کوریا میں ہوئی تھی جہاں دونوں رہنماؤں نے اس تجارتی جنگ کو عارضی طور پر روکنے پر اتفاق کیا تھا جس میں امریکہ نے چینی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کیے تھے جبکہ چائنہ نے نایاب معدنیات کی عالمی سپلائی محدود کرنے کی دھمکی دی تھی۔
فروری میں امریکی سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ ٹرمپ کو دنیا بھر سے درآمدات پر کئی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ تاہم ٹرمپ نے دوسرے قانونی راستوں کے ذریعے بعض محصولات دوبارہ نافذ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔






