پاکستان کو مذاکرات کا دوسرا دور پھر اسلام آباد میں ہونے کی توقع، ٹرمپ کو جلد معاہدہ ہونے کی امید

10:027/05/2026, Perşembe
جنرل7/05/2026, Perşembe
ویب ڈیسک
تہران میں ایک چوراہے پر لگے پوسٹر میں آبنائے ہرمز کو ایرانی گرفت میں دکھایا گیا ہے۔
تہران میں ایک چوراہے پر لگے پوسٹر میں آبنائے ہرمز کو ایرانی گرفت میں دکھایا گیا ہے۔

پاکستان کو توقع ہے کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات کا دوسرا دور اب پھر اسلام آباد میں ہو سکتا ہے جب کہ امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدہ جلد ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے فی الحال اس پر خاموشی ہے۔

اپریل کے آخری عشرے میں دونوں ملکوں کے مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں بھرپور تیاریاں کی گئی تھیں لیکن مذاکرات کا یہ دوسرا دور منسوخ ہو گیا تھا جس کے اب دوبارہ ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

ترک خبر رساں ادارے 'انادلو ایجنسی' کا کہنا ہے کہ اسے ثالثی کے معاملات سے آگاہ دو پاکستانی سرکاری عہدے داروں نے بتایا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور پھر اسلام آباد میں ہونے کی توقع ہے اور پاکستان کو امید ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے 14 اور 15 مئی کو چائنہ کے دورے پر جانے سے قبل واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی 'ابتدائی' معاہدہ طے پا جائے گا۔

انادلو ایجنسی سے بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے ایک عہدے دار کا کہنا تھا کہ 'حالیہ پیش رفتوں کو دیکھتے ہوئے پاکستان پرامید ہے کہ آئندہ ہفتے تک دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات بحال ہو جائیں گے اور مشرقِ وسطیٰ تنازع کا کوئی باہمی حل نکل آئے گا۔'

عہدے دار کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان 80 سے 85 فیصد معاملات پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔ لیکن سب سے اہم جوہری صلاحیت کے معاملے پر اب بھی بات پھنسی ہوئی ہے۔'

ٹرمپ کو معاہدہ جلد ہونے کی امید

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران اس کا احترام کرے جس پر اتفاق ہو چکا ہے، تو امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ ختم اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکتی ہے۔

بدھ کو اپنے ایک بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 'فرض کریں کہ ایران وہ دینے پر راضی ہو جاتا ہے جس پر اتفاق ہو، جو کہ ایک بڑا مفروضہ ہے، لیکن پھر ایپک فیوری (اسرائیل و امریکہ کا ایران کے خلاف آپریشن) اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہٹا دی جائے گی جو بہت مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ جس سے آبنائے ہرمز ایران سمیت سب کے لیے کھل جائے گی۔'

ٹرمپ نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں ایک بار پھر جلد معاہدہ طے پانے کی امید ظاہر کی۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ 'ایرانی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں ہماری بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔ قوی امکان ہے کہ ہم معاہدہ کر لیں گے اور یہ معاملہ بہت جلد ختم ہو جائے گا۔'

واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو جنگ کے خاتمے اور معاہدے سے متعلق کچھ تجاویز بھجوائی گئی ہیں جن کا ایران جائزہ لے رہا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران اس پر اپنا جواب بھجوا دے گا۔

ایرانی قانون ساز اور پارلیمنٹ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراھیم رضائی نے امریکی تجاویز کو 'حقیقت سے زیادہ امریکی خواہشات کی فہرست' قرار دیا ہے۔

گزشتہ روز پاکستانی و امریکی ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کہ دونوں فریقین ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت یا ابتدائی معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے فی الحال اس کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

تاہم ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ممکنہ طور پر معاہدے کے قریب پہنچنے کی اطلاعات پر طنز کیا ہے۔

باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں لکھا کہ 'آپریشن مجھ پر یقین کرو بھائی ناکام ہو گیا۔ اب دوبارہ آپریشن دکھاوا کر کے معمول پر آ جاؤ۔'

#پاکستان
#امریکہ
#اسلام آباد
#ڈونلڈ ٹرمپ
#مذاکرات
#امریکہ ایران مذاکرات