
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی خفیہ ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو نے ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے ایک خفیہ ملاقات بھی کی۔
تاہم بدھ کو متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امارات کے اسرائیل سے تعلقات اعلانیہ ہیں اور 'غیر شفاف یا غیر سرکاری انتظامات پر مبنی' نہیں ہیں۔
امارات کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'کسی غیر اعلانیہ دورے اور خفیہ انتظامات سے متعلق دعوے صریحاً بے بنیاد ہیں جب تک امارات کے متعلقہ حکام اس حوالے سے باضابطہ اعلان نہ کریں۔'
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی اس خفیہ ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک 'تاریخی پیش رفت' بھی ہوئی۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے آگاہ ایک ذریعے نے انہیں بتایا ہے کہ نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زید کی ملاقات العین شہر میں ہوئی جو امارات اور عمان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات 26 مارچ کو ہوئی اور کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔
اس ذریعے کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ نے بھی ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کے کم از کم دو دورے کیے جن کا مقصد فوجی کارروائی میں معاونت تھا۔ موساد کے سربراہ کے دورے کو سب سے پہلے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران میں شروع کی گئی جنگ میں تہران کے حملوں کا نشانہ بننے کے بعد متحدہ عرب امارات نے امریکہ اور اسرائیل سے اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔ امارات نے ابراہیمی معاہدوں کے ذریعے 2020 میں اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تھے جو اب خاصے گہرے ہو چکے ہیں۔
امریکہ کے اسرائیل میں سفیر مائیک ہکابی نے منگل کو کہا کہ جنگ کے دوران اسرائیل نے اپنے فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم کی کچھ بیٹریز اور انہیں چلانے والا عملہ بھی متحدہ عرب امارات کو فراہم کیا۔
اسرائیل کے ساتھ تعاون اور گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ کا تبصرہ
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات کے صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کی خفیہ ملاقات کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو نے سرِعام وہ بات ظاہر کر دی ہے جو ایران کی سیکیورٹی ایجنسیاں ہماری قیادت کو پہلے ہی بتا چکی تھیں۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ 'عظیم ایرانی قوم کے ساتھ دشمنی ایک احمقانہ جُوا ہے اور اس راستے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون اور گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے۔'
ایرانی وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر تفریق پھیلانے والوں کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔






