امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چائنہ کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ، دونوں صدور نے دورے کو کامیاب قرار دے دیا

09:4515/05/2026, جمعہ
جنرل15/05/2026, جمعہ
ویب ڈیسک
ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کے دوران ایک تصویر
ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کے دوران ایک تصویر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا دو روزہ سرکارہ دورۂ چین مکمل کرنے کے بعد جمعے کی دوپہر واپس روانہ ہو گئے ہیں۔

امریکہ اور چائنہ دونوں نے اس دورے کو کامیاب قرار دیا ہے تاہم کئی معاملات پر اب بھی دونوں ملکوں کے اختلافات برقرار ہیں۔

صدر ٹرمپ کا اپنے حالیہ بیان میں کہنا تھا کہ 'یہ ایک ناقابلِ فراموش دورہ رہا۔ اس کے بہت اچھے اثرات نکلیں گے۔ ہم نے بہت شاندار معاہدے کیے ہیں جو دونوں ملکوں کے لیے فائدے مند ہوں گے۔'

صدر ٹرمپ نے اس سے قبل فاکس نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ چائنہ نے 200 بوئنگ طیارے خریدنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

ایران کے معاملے پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اور چینی صدر اس پر کافی یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کے معاملے پر بات کی ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارا مؤقف تقریباً یکساں ہے۔ ہم اس مسئلے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کریں۔ ہم آبنائے کھلی رکھنا چاہتے ہیں۔

تاہم صدر شی کی جانب سے تو ایران جنگ سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی مگر چائنہ کی وزارتِ خارجہ نے جمعے کی صبح ایک بیان میں کہا کہ ایران جنگ نہیں ہونی چاہیے تھی۔

چین کا کہنا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے کے لیے ’بھرپور‘ کوششیں کر رہا ہے اور اسے امید ہے کہ وہ امن مذاکرات کی مزید حمایت کرتے ہوئے دیرپا امن کے قیام میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔

چینی وزارتِ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہاز رانی کے راستے جلد از جلد کھول دینے چاہئیں۔

جمعے کو چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کو چین کی اعلیٰ قیادت کے لیے اہم سمجھے جانے والے ونگ نان ہائی کا دورہ کرایا۔ اس دورے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی شی جن پنگ کے ساتھ تجارت، ایران اور بہت سے دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے ریمارکس میں امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ایک تاریخی اور یادگار موقع ہے۔ صدر شی کے بقول اس دورے میں ہم نے دونوں ملکوں کے درمیان نئے اور تعمیری اسٹرٹیجک تعلقات کی بنیاد رکھی ہے۔ اسے ایک تاریخی موقع قرار دیا جانا چاہیے۔

صدر شی نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک نیا دوطرفہ تعلق قائم ہوا ہے۔

اس ملاقات سے چند گھنٹے قبل فاکس نیوز نے ٹرمپ کا ایک انٹرویو نشر کیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ چینی صدر نے وعدہ کیا ہے کہ چین ایران کو فوجی ساز و سامان فراہم نہیں کرے گا۔

ٹرمپ کے مطابق لیکن اسی وقت صدر شی نے کہا کہ وہ وہاں سے بہت سا تیل خریدتے ہیں اور وہ اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ چین نے امریکہ سے تیل اور بوئنگ کے 200 طیارے خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔

#ڈونلڈ ٹرمپ
#چائنہ
#چین
#شی جن پنگ
#امریکہ چین تعلقات
#جوہری ہتھیار
#ایران