نیتن یاہو کو اب بھی ایرانی حکومت کے خاتمے کی امید، 'اسرائیلی منصوبہ سازوں کو جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی صلاحیت کا اندازہ ہوا'

10:3211/05/2026, Pazartesi
جنرل11/05/2026, Pazartesi
ویب ڈیسک
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ہی اسرائیلی منصوبہ سازوں کو ایران کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی صلاحیت کا اندازہ ہوا۔ ان کے بقول 'انہیں یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ یہ خطرہ کتنا بڑا ہے، لیکن اب وہ اسے سمجھتے ہیں۔'

امریکی نشریاتی ادارے 'سی بی ایس' کے پروگرام '60 منٹس' کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے ایران میں اسرائیل کے فوجی منصوبوں یا ٹائم لائن پر بات کرنے سے گریز کیا۔ تاہم انہوں نے اس امکان پر گفتگو کی کہ اگر ایران کی قیادت تبدیل ہو گئی تو اس کے کیا اثرات ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر یہ حکومت واقعی کمزور ہوتی ہے یا ممکنہ طور پر گر جاتی ہے تو میرا خیال ہے کہ یہ حزب اللہ کا خاتمہ ہوگا، حماس کا خاتمہ ہوگا اور غالباً حوثیوں کا بھی خاتمہ ہوگا۔ ایران نے جو پراکسی نیٹ ورک کھڑا کیا ہے اس کا پورا ڈھانچہ منہدم ہو جائے گا۔'

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایرانی حکومت کا خاتمہ ممکن ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ممکن ہے مگر اس کی ضمانت نہیں ہے۔

امریکی امداد پر انحصار کم کرنے کا عندیہ

نیتن یاہو نے امید ظاہر کی ہے کہ چوں کہ اسرائیل کے خلیجی ریاستوں سے تعلقات بڑھ رہے ہیں، اس لیے اگلے دس برسوں میں اسرائیل کا امریکی امداد پر انحصار ختم ہو جائے گا۔

'60 منٹس' میں گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ 'اسرائیل اور امریکہ کے درمیان عسکری تعاون کا جو مالی حصہ ہے، میں امریکہ کی اس مالی معاونت کو صفر پر لانا چاہتا ہوں۔'

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے بتایا کہ امریکہ اسرائیل کو ہر سال 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد دیتا ہے۔ واشنگٹن نے 2018 سے 2028 تک اسرائیل کو 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مگر یہ امریکہ اسرائیل کے مالی تعلقات کو ممکنہ طور پر ازسرِ نو ترتیب دینے کا بالکل درست وقت ہے۔ ان کے بقول 'میں اگلی کانگریس کا انتظار نہہیں کرنا چاہتا۔ میں ابھی شروع کرنا چاہتا ہوں۔'

امریکہ میں اسرائیل کی گھٹتی حمایت

اسرائیل کو امریکہ میں دونوں بڑی جماعتوں کی دیرینہ حمایت حاصل ہے اور کانگریس میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں کے ہی اراکین تل ابیب کی فوجی امداد کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ لیکن غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکی قانون سازوں اور امریکی عوام میں اسرائیل کی حمایت میں واضح کمی آئی ہے۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق اب 60 فیصد امریکی اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں جب کہ 59 فیصد امریکیوں کو نیتن یاہو کی قابلیت پر بہت کم اعتماد ہے یا بالکل اعتماد نہیں۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اسرائیل کی حمایت میں کمی آنے کی وجہ سوشل میڈیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد ممالک نے سوشل میڈیا پر ایسی چالبازی کی ہے جس نے اسرائیل کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

#بنیامین نیتن یاہو
#نیتن یاہو
#اسرائیل
#ایران
#آبنائے ہرمز
#اسرائیل ایران تنازع