تفریحی جہاز سے پھوٹنے والی ہنٹا وائرس کی وبا: کیا یہ کرونا کی طرح خطرناک ہے اور ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت ہے؟

11:318/05/2026, جمعہ
جنرل8/05/2026, جمعہ
ویب ڈیسک
ہنٹا وائرس کے ایک مشتبہ مریض کو منتقل کیا جا رہا ہے۔
ہنٹا وائرس کے ایک مشتبہ مریض کو منتقل کیا جا رہا ہے۔

ہنٹا وائرس آج کل خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ایک تفریحی جہاز سے پھوٹنے والی اس وبا کو ماہرین سنجیدہ لے رہے ہیں اور حکام تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

ہنٹا وائرس ایک تفریحی بحری جہاز (کروز شپ) سے پھیلنا شروع ہوا ہے۔ ایم وی ہونڈائس نامی یہ اس جہاز نے گزشتہ ماہ ارجنٹینا سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ جہاز پر سفر کرنے کے بعد تین مسافروں کی موت ہوئی جب کہ چار مسافروں کا جہاز سے طبی بنیادیوں پر انخلا کرا کر انہیں علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔

اب دنیا کے کئی ملکوں میں بڑے پیمانے پر ایک آپریشن شروع ہو گیا ہے جس کا مقصد ان افراد کی نشان دہی کرنا ہے جو ہنٹا وائرس سے ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔

کیوں کہ بہت سے ایسے لوگ جو جہاز پر سوار تھے، یا جن کے وائرس سے متاثر ہونے یا خدشہ ہے یا وہ کسی متاثرہ شخص سے رابطے میں آئے ہیں، مختلف پروازوں کے ذریعے مختلف ملکوں میں پھیل چکے ہیں جن میں برطانیہ، جنوبی افریقہ، نیدرلینڈز، امریکہ اور سوئٹزر لینڈ بھی شامل ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق جہاز پر سوار مسافروں میں سے آٹھ افراد کے ہنٹا وائرس کے شکار ہونے کا خدشہ ہے۔ تین کے بارے میں تو تصدیق ہو چکی ہے کہ وہ اس وائرس سے متاثر ہوئے تھے جب کہ پانچ کے بارے میں شبہ ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ جہاز پر یہ وبا شروع کیسے ہوئی۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کے اس وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہے۔

'یہ کووڈ نہیں ہے'

عالمی ادارۂ صحت کی ڈاکٹر ماریہ وان کیرخوو نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ کسی وبا کا آغاز نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یہ نہ کووڈ ہے نہ انفلوئنزا۔ اس کے پھیلاؤ کا طریقہ کار بہت بہت مختلف ہے۔'

ہنٹا وائرس کی یہ قسم جس کے کچھ مریض سامنے آئے ہیں، یہ اتنی زیادہ وبائی نہیں ہے یعنی تیزی سے نہیں پھیلتی۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق وائرس کا انسانوں سے انسانوں میں پھیلاؤ ممکن ہے لیکن عالمی سطح پر اس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے۔

ہنٹا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

ہنٹا وائرس عموماً چوہوں سے پھیلتا ہے۔ اگر کوئی انسان ایسی فضا میں سانس لے جہاں اس وائرس کے ذرات موجود ہوں، یا وائرس سے متاثرہ چوہوں کا فضلہ یا لعاب موجود ہو تو یہ انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔

جس جہاز سے یہ وبا شروع ہوئی وہ جنگلی حیات کے علاقوں کا دورہ کر رہا تھا۔ تو امکان ہے کہ کوئی مسافر اس وقت اس وائرس سے رابطے میں آیا ہو یا یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے سے متاثرہ کوئی مسافر جہاز پر سوار ہوا ہو۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ جہاز پر یہ وائرس کئی لوگوں میں منتقل ہوا ہوگا۔ کیوں کہ لگژری کروز جہازوں میں بھی بہرحال جگہ کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے اور لوگ لامحالہ ایک دوسرے سے رابطے میں آتے ہیں۔ لوگ آپس میں کیبنز یا کھانے کی جگہوں پر ایک دوسرے کے رابطے میں آتے ہیں جہاں یہ وائرس ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے۔

برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہنٹا وائرس روز مرہ کے عام رابطوں سے نہیں پھیلتا۔ مثلاً عوامی مقامات پر جانے، دکانوں، دفاتر اور اسکولوں میں جانے سے یہ نہیں پھیلتا۔

تاہم یہ وائرس کسی ایسے شخص سے منتقل ہو سکتا ہے جو کسی متاثرہ شخص کے ساتھ قربت میں زیادہ وقت گزار کر آیا ہو۔

ایم وی ہنڈائس جہاز کے جن تین مسافروں کی اموات ہوئیں، ان میں ایک ڈچ خاتون بھی شامل تھیں جو 24 اپریل کو سینٹ ہیلینا کے جزیرے پر جہاز رکنے کے بعد اس سے اتر گئی تھیں۔ وہ اس سے قبل اپنے شوہر کے ساتھ ایک کیبن میں رہ رہی تھیں اور ان کے شوہر کا 11 اپریل کو انتقال ہو گیا تھا۔ تاہم ابھی یہ نہیں پتا کہ ان کے شوہر بھی ہنٹا وائرس سے متاثر تھے یا نہیں۔

اس کی علامات عموماً وائرس لگنے کے دو سے چار ہفتوں بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہے اور ایک مہینے تک رہ سکتی ہیں۔

وائرس سے متاثرہ شخص کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کچھ کیسز میں اگر وائرس زیادہ بگڑ جائے تو جسم میں خون کے رساؤ اور گردے خراب ہونے کے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے جو جان لیوا ہو سکتا ہے۔

وبا پھوٹنے کی ٹائم لائن

یکم اپریل: ایم وی ہنڈائس نامی جہاز نے ارجنٹینا سے اپنا سفر شروع کیا

6 اپریل: ستر سالہ ایک معمر شخص بیمار پڑ گیا

11 اپریل: بیمار مسافر کی جہاز پر ہی موت ہو گئی

24 اپریل: سینٹ ہیلینا نامی جزیرے پر جہاز سے لاش کو اتارا گیا۔ مسافر کی 69 سالہ بیوی نے بھی جہاز چھوڑ دیا اور وہ فلائٹ کے ذریعے جنوبی افریقہ چلی گئیں جہاں 26 اپریل کو ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ چار مئی کو ان کی ٹیسٹ رپورٹس آئیں جس میں وہ ہنٹا وائرس سے متاثرہ پائی گئیں۔ ان کے علاوہ دیگر دو درجن مسافروں نے بھی جہاز چھوڑ دیا۔

27 اپریل: ایک اور بیمار مسافر کو جنوبی افریقہ منتقل کیا گیا جہاں دو مئی کو اس کے ٹیسٹ ریزلٹ بھی ہنٹا وائرس کے لیے مثبت پائے گئے۔

2 مئی: ایک جرمن خاتون جو 28 اپریل سے ہنٹا وائرس کی علامات کا شکار تھیں، ان کی بھی جہاز پر موت ہو گئی۔

3 مئی: جہاز کیپ ورڈے پر پہنچا۔ عالمی ادارہ صحت نے جہاز پر ہنٹاوائرس کی مشتبہ وبا پھیلنے کا نوٹس لیا۔ جہاز پر مزید تین دیگر مسافر بھی بیمار پڑ گئے۔

7 مئی: جہاز کینیری جزائر کی طرف روانہ ہو گیا

8 مئی: جہاز آج اسپین پہنچے گا جہاں حکام 140 مسافروں اور عملے کے ارکان کو وصول کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اسپین کے حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کو الگ تھلگ مقام پر منتقل کیا جائے گا۔

#ہنٹا وائرس
#وبا
#کرونا وائرس