
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور عراق دونوں نے خلیجِ فارس سے تیل و گیس کی ترسیل کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق معاملے سے آگاہ پانچ ذرائع نے انہیں اس ڈیل کی تصدیق کی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز کو بڑے مؤثر طریقے سے کنٹرول اور بند کیا ہے جس کی وجہ سے یہاں سے گزرنے والی تیل و گیس کی سپلائی بری طرح متاثر ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اب آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے بجائے اس کی رسائی کنٹرول کرنے کی طرف جا رہا ہے۔
عراق کا بیش تر تیل آبنائے ہرمز کے راستے برآمد ہوتا ہے۔ اس لیے عراق تیل پیدا کرنے والے ان ملکوں میں شامل ہے جو اس راستے کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان جو مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اس کا بڑا انحصار مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کیے جانے والے تیل و گیس پر ہے جس کی وجہ سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔
بغداد اور تہران کے درمیان ڈیل کے تحت عراق نے کروڈ آئل سے لدے دو بڑے جہازوں کے لیے محفوظ راستہ حاصل کیا ہے۔ یہ جہاز 20, 20 لاکھ بیرل خام تیل لے کر اتوار کو آبنائے ہرمز سے گزرے۔
عراق اب مزید جہاز گزارنے کے لیے ایران کی اجازت حاصل کرنے پر کام کر رہا ہے۔ عراقی وزارتِ تیل کے ایک عہدے دار جو اس ساری صورتِ حال سے باخبر ہیں، نے رائٹرز کو بتایا کہ حکومت تیل سے ہونے والی اپنی آمدن کے تحفظ کے کام کر رہی ہے جو اس کے بجٹ میں 95 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔
عہدے دار کا کہنا تھا کہ 'عراق، ایران کا اہم اتحادی ہے اور عراق کی معیشت میں کوئی بھی بگاڑ ایران کے معاشی مفاد کو بھی نقصان پہنچائے گا۔'
عراقی وزارتِ تیل کے ایک اور عہدے دار اور شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ذریعے نے بھی ایران کے ساتھ بات چیت کی تصدیق کی۔ ان تمام افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے بات کی ہے کیوں کہ یہ اس معاملے پر معلومات دینے کے مجاز نہیں ہیں۔
عراقی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر فی الحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔
پاکستان کے لیے قطری گیس کی ترسیل
دو ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ اسی طرح اسلام آباد اور تہران کے درمیان ایک علیحدہ ڈیل کے تحت قطر کی ایل این جی گیس سے لدے دو ٹینکر پاکستان کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔
پاکستان قطر سے ماہانہ تقریباً 10 ایل این جی گارکو لے رہا تھا اور گرمیاں بڑھنے کے بعد اس کی ایل این جی کی طلب میں اضافہ بھی ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور عراق دونوں کی جانب سے ایران یا پاسدارانِ انقلاب کو جہاز گزارنے کے عوض براہ راست کوئی ادائیگی نہیں کی گئی۔
ذرائع کے مطابق قطر اس معاملے میں بالواسطہ شامل نہیں تھا۔ لیکن اس نے پاکستان کو شپمنٹ بھیجنے سے قبل امریکہ کو آگاہ کیا۔
پاکستان کی وزارتِ پیٹرولیم اور وزارت اطلاعات کی جانب سے رائٹرز کے تبصرے کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کا بھی کوئی جواب نہیں ملا ہے۔
معاملے سے آگاہ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے توانائی کی قیمتیں اور سپلائی کے مسائل بڑھ رے ہیں، دیگر ممالک بھی اسی طرح کی ڈیلز کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے ہر ماہ تقریباً تین ہزار جہاز گزرتے تھے۔ اب یہ ٹریفک اس کا صرف پانچ فیصد رہ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو باضابطہ شکل دے رہا ہے۔ عراقی وزارتِ تیل کے ایک عہدے دار کے مطابق ایران نے عراق سے کہا ہے کہ وہ ہر ٹینکر سے متعلق دستاویزات فراہم کرے تاکہ ایرانی بحری افواج کی نگرانی میں مخصوص بحری راستوں کے ذریعے ان کی آمد و رفت کو ممکن بنایا جا سکے۔
عراقی وزارتِ تیل کی خصوصی ٹیمیں ایرانی حکام کو جہازوں سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کر رہی ہیں جن میں منزل، شپنگ تفصیلات، ملکیت اور کارگو کی نوعیت شامل ہے۔ تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
جہازوں کی آمد و رفت سے متعلق ایران کے ساتھ مذاکرات سے واقف ایک پاکستانی ذریعے نے کہا کہ اس عمل میں بعض رکاوٹیں پیش آئی ہیں۔
ان کے بقول پاسدارانِ انقلاب کبھی کبھار شرائط بدل دیتی ہے جس کی وجہ سے معاملات کو درست سمت میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔






