
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی خلیجِ فارس سے نکلنے میں مدد کرے گا۔
ٹرمپ کی جانب سے اس منصوبے کی کوئی واضح تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر اتوار کو جاری بیان ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے ان ملکوں کو کہا ہے کہ ہم اس آبی گزرگاہ سے بحفاظت طور پر نکلنے کے لیے جہازوں کی رہنمائی کریں گے۔ تاکہ وہ آزادانہ اپنے کاروبار سرانجام دے سکیں۔'
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ 'پروجیکٹ فریڈم' کا آغاز پیر کی صبح سے ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے دھمکی بھی دی کہ اگر اس آپریشن کے دوران کوئی مداخلت ہوئی تو اس سے پوری قوت سے نمٹا جائے گا۔
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد سے خلیجِ فارس میں سینکڑوں جہاز پھنسے ہوئے ہیں جن پر موجود عملے کی تعداد 20 ہزار سے زیادہ ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے بیان کے مطابق وہ 15 ہزار فوجی اہلکاروں اور 100 سے زیادہ ہوائی جہازوں کے علاوہ جنگی کشتیوں اور ڈرونز کی مدد سے آبنائے ہرمز سے نکلنے میں جہازوں کی مدد کریں گے۔
سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اپنے بیان میں کہا کہ 'علاقائی سیکیورٹی اور عالمی معیشت کی خاطر اس دفاعی مشن کے لیے ہماری حمایت ضروری ہے جب کہ ہم ایران کی بحری ناکہ بندی بھی برقرار رکھیں گے۔'
ایران کا ردعمل
ایران کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فورسز آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے باز رہیں۔ ایرانی فوج کی مرکزی کمان کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فورسز کسی بھی خطرے سے 'سختی سے نمٹیں گی۔
ایرانی فوج کی مرکزی کمانڈ کے سربراہ علی عبداللہی نے بیان میں کہا کہ 'ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی ہمارے ہاتھوں میں ہے اور جہازوں کو محفوظ راستے سے گزرنے کے لیے مسلح افواج سے تعاون کرنا ہوگا۔ آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والی کسی بھی غیر ملکی مسلح فورس کو نشانہ بنایا جائے گا۔ خصوصاً امریکی فوج کو۔'
تاہم امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس اعلان کے بعد برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملہ ہوا ہے۔
جہاز پر حملے کی اطلاعات
ایجنسی کے مطابق جہاز پر حملہ فجیرہ کی بندرگاہ سے کچھ فاصلے پر ہوا تاہم حملے میں عملہ محفوظ رہا۔
یاد رہے کہ امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کیا تھا اور وہ اب تک مؤثر طریقے سے اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول رکھنے میں کامیاب ہے۔ جب کہ جواب میں امریکہ نے بھی ایران کی بحری ناکہ بندی شروع کر رکھی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنانے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کے قیام کی تجویز پیش کیے جانے اور دیگر ملکوں سے مدد مانگنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ سینٹ کام نے کہا ہے کہ حالیہ کوششوں میں 'سفارتی اقدامات کے ساتھ فوجی تعاون بھی شامل ہوگا۔'






