امریکہ اور ایران کے دوسرے دن بھی ایک دوسرے پر حملے، جنگ بندی معاہدہ خطرے میں

10:0911/06/2026, جمعرات
جنرل11/06/2026, جمعرات
ویب ڈیسک
فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ اور ایران نے جمعرات کو دوسرے دن بھی ایک دوسرے پر حملے کیے ہیں جس کے بعد دونوں کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے برقرار رہنے پر خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر تہران فوری طور پر امن معاہدہ نہیں کرتا تو وہ ایران پر مزید حملے کریں گے۔

دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی معاہدہ جو اپریل سے برقرار ہے، اب رواں ہفتے خطرے میں پڑ گیا ہے۔ حالیہ جھڑپوں کا آغاز اسی ہفتے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کی تباہی سے ہوا ہے جس کا الزام امریکہ نے ایران پر لگایا۔ گو کہ ایران نے ہیلی کاپٹر تباہ کرنے کی تردید کی مگر امریکہ نے گزشتہ روز کارروائی کرتے ہوئے ایران میں کئی مقامات پر بمباری کی جس کا تہران کی جانب سے بھی جواب دیا گیا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جمعرات کو کیے گئے حملوں میں ایرانی فوج کی نگرانی کی صلاحیتوں، مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی نظام کی سائٹس کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی تہران کی جانب سے 'بلاجواز جاری جارحیت' کے جواب میں کی گئی۔

امریکی فوج کی مرکزی کمانڈ نے کہا کہ کارروائی تہران میں رات گئے شروع کی گئی اور حملے تقریباً چار گھنٹوں تک جاری رہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو 'فاکس نیوز' کی رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے حملے روک دے گا۔ لیکن اگر ایرانی قیادت واشنگٹن کے ساتھ فوری طور پر معاہدے پر دستخط نہیں کرتی تو وہ شدید بمباری دوبارہ شروع کر دیں گے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے کہا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں واشنگٹن کے 18 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔

پاسداران انقلاب نے اردن میں الارزق ایئربیس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور اس امریکی اڈے پر اس نے 12 بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔

ایران کی اعلیٰ فوجی کمانڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے ایران کی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دو جہازوں پر فائرنگ بھی کی گئی ہے۔

جب کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز بند ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خطرات کے باوجود کمرشل جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔

ایرانی نیوز ایجنسیوں نے کئی شہروں میں دھماکے رپورٹ کیے ہیں جن میں سرک، کارگان، بندرعباس، مناب اور کرج شامل ہیں جو آبنائے ہرمز پر واقع ہیں۔ جب کہ ملک کے شمال میں واقع وارامن میں بھی دھماکے رپورٹ ہوئے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حملے بھی بدستور جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں مزید حملے کیے ہیں جن میں 13 مزید افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

#امریکہ
#ایران
#ڈونلڈ ٹرمپ
#جنگ بندی معاہدہ
#آبنائے ہرمز
#پاسداران انقلاب