
ایران کی جانب سے امریکی تجاویز کا جواب بھجوائے جانے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے اسے مسترد کیے جانے کے بعد ایک بار پھر دونوں فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک کی سی صورتِ حال بنتی نظر آ رہی ہے۔
اسی دوران دونوں جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم کبھی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے جب کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی گزشتہ روز سے اب تک متعدد بیانات سامنے آئے ہیں جن میں انہوں نے ایران پر سخت تنقید کی ہے۔
ایران کا جواب
ایران نے گزشتہ روز یعنی اتوار کو پاکستان کے ذریعے امریکہ کی جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر اپنا جواب بھجوایا۔ پاکستان اور امریکہ کی جانب سے تو ایران کے جواب کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ تاہم ایران کے سرکاری میڈیا نے کچھ تفصیلات بتائی ہیں۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق تہران نے اپنے جواب میں آبنائے ہرمز پر ایران کی حاکمیت تسلیم کرنے اور جنگ سے پہنچنے والے نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
آئی آر آئی بی کا کہنا تھا ایران نے اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور اس پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ٹرمپ کا ردعمل
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جواب کو 'ناقابل قبول' قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے نام نہاد نمائندوں کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے جو مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ دونوں ملک کسی ابتدائی معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ بھی جلد معاہدہ ہونے کی امید ظاہر کرتے نظر آئے۔ تاہم ان کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب بھی ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کیے بغیر جنگ کو ختم نہیں سمجھا جا سکتا۔






