
برطانوی شاہ چارلس اپنی اہلیہ ملکہ کمیلا پارکر کے ہمراہ امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے منگل کو ایک مصروف دن گزارا۔ شاہ چارلس نے امریکی کانگریس سے خطاب کیا اور بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں اپنے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں شریک ہوئے۔
دونوں مواقع پر شاہ چارلس نے اپنے خطاب کے دوران تاریخی حوالوں کے ساتھ مذاق اور مزاحیہ جملوں سے حاضرین کو محظوظ کیا۔
وائٹ ہاؤس میں خطاب کے دوران برطانوی بادشاہ نے اوکس (آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کے اتحاد) اور نیٹو اتحاد کی اہمیت پر زور دیا تاکہ تیکنیکی اور عسکری تعاون بڑھایا جا سکے۔
ٹرمپ کو گھنٹی کا تحفہ
شاہ چارلس نے صدر ٹرمپ کو ایک برطانوی آبدوز کی گھنٹی تحفے میں پیش کی جس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ سن 1944 میں برطانیہ کے ایک شپ یارڈ سے ایک آبدوز لانچ کی گئی تھی جس کا نام 'ایچ ایم ایس ٹرمپ' تھا اور اس نے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کو جلانے کا تاریخی حوالہ دے کر مذاق
شاہ چارلس نے اپنی گفتگو کے دوران کئی تاریخی واقعات کے پسِ منظر میں مزاحیہ اور پرلطف جملے کہے جن سے حاضرین محظوظ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ ایک موقع پر انہوں نے وائٹ ہاؤس میں حالیہ تعمیراتی کاموں پر بھی تبصرہ کیا۔
امریکی صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے مشرقی حصے میں تبدیلیاں کر رہے ہیں اور ایک بال روم تعمیر کرا رہے ہیں جس پر امریکہ میں کافی بحث اور مقدمے بازی بھی ہو رہی ہے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ چارلس نے تبصرہ کیا کہ 'سن 1814 میں ہم نے بھی وائٹ ہاؤس کی از سرِ نو تعمیرِ کی اپنی کوشش کی تھی۔'

'اگر ہم نہ ہوتے تو آپ فرانسیسی بول رہے ہوتے'
اسی طرح شاہ چارلس نے ٹرمپ پر ایک اور چوٹ کی اور ان کے بیان پر تبصرہ کیا۔
ٹرمپ نے جنوری میں ڈیووس اجلاس سے خطاب میں یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران ان کی مدد نہ کرتا تو آج وہ جرمن اور تھوڑی بہت جاپانی زبان بول رہے ہوتے۔
شاہ چارلس نے ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے جواب دیا کہ اگر برطانیہ نہ ہوتا تو آج امریکی شہری فرانسیسی زبان بول رہے ہوتے۔ شاہ چارلس کے اس جملے پر صدر ٹرمپ بھی ہنس پڑے۔
شاہ چارلس اس نوآبادیاتی دور کے حوالے سے بات کر رہے تھے جب برطانیہ اور فرانس شمالی امریکہ میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے کوشاں تھے۔
مشرقِ وسطیٰ کے معاملے پر شاہ چارلس مجھ سے اتفاق کرتے ہیں: ٹرمپ
عشائیے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شاہ چارلس کی امریکی کانگریس میں کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ڈیموکریٹس کو کھڑے ہو کر داد دینے پر مجبور کر دیا جو میں بھی نہیں کر سکا۔
امریکی صدر نے اپنی تقریر میں ایران کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس مخصوص حریف کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ہم اس حریف کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے اور اس پر شاہ چارلس بھی مجھ سے اتفاق کرتے ہیں۔
ٹرمپ کے اس بیان پر بکنگھم پیلس نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو رد عمل میں کہا ہے کہ 'جوہری پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ان کی حکومت کا طویل عرصے سے جو معروف مؤقف ہے، شاہ چارلس اس سے آگاہ ہیں۔'






