آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ایران اور امریکہ کے ایک دوسرے پر حملے، عالمی رہنماؤں کا سفارتی عمل برقرار رکھنے پر زور

09:555/05/2026, منگل
جنرل5/05/2026, منگل
ویب ڈیسک
ایران میں ایک چوراہے پر ٹرمپ کے منہ پر آبنائے ہرمز بنا کر پوسٹر لگا ہوا ہے۔
ایران میں ایک چوراہے پر ٹرمپ کے منہ پر آبنائے ہرمز بنا کر پوسٹر لگا ہوا ہے۔

امریکہ اور ایران نے خلیجِ فارس میں پھر ایک دوسرے پر حملے کیے ہیں جس سے دونوں کے درمیان نازک جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ امریکہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے حملے کر رہا ہے جب کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیر کو خلیجِ فارس میں پھنسے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نکالنے کے لیے 'پروجیکٹ فریڈم' نامی ایک آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ تاہم اس کوشش کے پہلے ہی دن دونوں فریقین کی جانب سے اپنی برتری دکھانے کے لیے کئی حملے بھی ہوئے۔

امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کو ایران کی چھ جنگی کشتیوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایران نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی کشتی تباہ نہیں ہوئی بلکہ امریکہ نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔

خلیجِ فارس میں موجود کئی بحری جہازوں نے بھی دھماکوں اور آگ لگنے کے واقعات رپورٹ کیے۔ ایران نے اپنی کارروائیوں میں متحدہ عرب امارات کو بھی نشانہ بنایا اور ایرانی میزائلوں سے امارات کے ایک آئل پورٹ پر آگ بھڑک اٹھی۔

متحدہ عرب امارات نے کہا کہ اسے ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا جنہیں اس نے کشیدگی میں 'خطرناک اضافہ' قرار دیا ہے۔

امارات کے مطابق فجیرہ میں توانائی کے ایک مرکز پر حملے میں تین بھارتی شہری زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق چار کروز میزائل داغے گئے جن میں سے تین کو مار گرایا گیا جبکہ ایک سمندر میں جا گرا۔

ایرانی فوجی حکام نے حملوں کی مکمل تردید نہیں کی۔ تاہم یہ کہا کہ تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا کوئی پیشگی منصوبہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ صورتِ حال امریکی فوجی اقدامات کا نتیجہ ہے۔

آبنائے ہرمز بدستور بند

امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ جنگ بندی کے بعد سے دونوں کے ایک دوسرے پر یہ پہلی بار براہِ راست حملے تھے۔ تاہم امریکہ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کی حالیہ کوشش فی الحال ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔ کیوں کہ اب تک آبنائے ہرمز میں ٹریفک میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی مگر حملے دوبارہ شروع ہونے سے جنگ بندی ضرور خطرے میں پڑ گئی ہے۔

امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ دو امریکی تجارتی جہاز فوجی جہازوں کی مدد سے آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کب؟ جب کہ ایران نے حالیہ دورانیے میں بھی کسی بھی جہاز کے آنائے ہرمز سے گزرنے کی تردید کی ہے۔

عالمی رہنماؤں کا ایران پر سفارت کاری جاری رکھنے کے لیے دباؤ

منگل کے روز عالمی رہنماؤں نے ایران پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرے کیوں کہ حالیہ حملوں کے بعد جنگ بندی کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارت کاری جنگ بندی پاکستان میں مذاکرات کے پہلے دور کے بعد سے تعطل کا شکار ہے۔ دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر برقرار ہیں اور ڈیڈ لاک کی سی صورتِ حال ہے۔

جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ 'مذاکرات کی میز پر واپس آئے اور خطے اور دنیا کو یرغمال بنانا بند کرے۔' جب کہ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی اسی طرح کے بیانات دیے ہیں۔

سعودی عرب نے بھی کشیدگی کم کرنے اور سیاسی حل کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا ہے۔

'پروجیکٹ فریڈم پروجیکٹ ڈیڈ لاک ہے'

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو ہونے والے واقعات کے تناظر میں کہا ہے کہ اس تنازع کا کوئی عسکری حل نہیں ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی ثالثی سے امن مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی تھی۔ انہوں نے امریکہ اور متحدہ عرب امارات کو خبردار کیا کہ وہ بدخواہوں کی وجہ سے کسی دلدل میں نہ پھنسیں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ 'پروجیکٹ فریڈم پروجیکٹ ڈیڈ لاک ہے۔'

#آبنائے ہرمز
#ایران
#امریکہ
#خلیج فارس
#متحدہ عرب امارات
#پروجیکٹ فریڈم