
امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک محدود اور عارضی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ گئے ہیں۔ جمعرات کو اعلیٰ عہدے داروں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک فریم ورک کا مسودہ تیار ہے جو لڑائی روک دے گا لیکن بڑے اور اہم دیرینہ مسائل فی الحال غیر حل شدہ ہی رہیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، اس کے مطابق یہ ایک جامع معاہدے کے بجائے قلیل المدتی مفاہمت ہوگی۔ دونوں فریقین کے درمیان اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ فی الحال اس مرحلے پر ایک عارضی معاہدے کے ہی اشارے مل رہے ہیں۔
تاہم یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ عارضی معاہدہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی سمت میں لے جائے گا۔ معاہدے کی خبریں آنے کے بعد بین الاقوامی معاشی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے جب کہ تیل کی قیمتوں میں بھی قابل ذکر کمی ہوئی ہے۔
حکام اور ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن فی الحال سارے تنازعات ایک ساتھ حل کرنے کے عزائم سے پیچھے ہٹے ہیں کیوں کہ دونوں کے درمیان اختلافات بہت زیادہ ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم کے ذخائر کے مستقبل اور ایران پر جوہری منصوبوں کی پابندیوں کی مدت کے بارے میں دونوں کے مؤقف میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
معاملے سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مذاکرات ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے ہیں۔ اگر دونوں فریقین ابتدائی معاہدے پر رضامند ہو جاتے ہیں تو اس کے تحت ایک حتمی معاہدے کے لیے 30 دن میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق فی الحال جو مسودہ ترتیب دیا جا رہا ہے، اس میں امریکہ کے وہ اہم مطالبات شامل نہیں ہیں جو وہ کرتا آ رہا ہے اور ایران مسترد کر رہا ہے۔ مثلاً ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیوں، مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی پراکسیز کا خاتمہ اور افزودہ یورینیم کی حوالگی وغیرہ اس میں شامل نہیں ہے۔
ان بڑے مسائل پر بات کرنے سے پہلے اب دونوں فریق ایک ایسے عارضی معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد لڑائی کو ختم کرنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی ہے۔
ایک سینیئر پاکستانی عہدے دار، جو دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کے عمل میں بھی شامل ہیں، نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں کہا ہے کہ 'ہماری ترجیح یہ ہے کہ دونوں فریقین جنگ کے مستقل خاتمے کا اعلان کریں اور جب دونوں دوبارہ براہِ راست مذاکرات شروع کریں تو باقی مسائل حل کیے جائیں۔'
ذرائع کے مطابق اس مرحلے پر جو فریم ورک تجویز کیا جا رہا ہے، اس میں تین مراحل کی بات کی گئی ہے۔ جنگ کا باضابطہ اور حتمی خاتمہ، آبنائے ہرمز کے بحران کا حل اور اس کے بعد 30 دن کے اندر مذاکرات میں دیگر بڑے مسائل کا حل تلاش کرنا۔
پاکستانی عہدے دار اور ایک اور ذریعے نے بتایا ہے کہ ایک صفحے کا مسودہ جو جنگ کے حتمی خاتمے کا اعلان کرے گا، دونوں فریق اس پر کافی حد تک اتفاقِ رائے کر چکے ہیں تاہم کچھ معاملات پر اب بھی فاصلے برقرار ہیں۔
ٹرمپ پرامید، ایران کو شبہات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خاصے پرامید ہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان کوئی معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ 'ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے جس کا بہت زیادہ امکان ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ جلد نمٹ جائے گا۔
تاہم ایران امریکہ کی جنگ کے خاتمے کی تجاویز کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ تہران امریکہ کی تجویز کا طریقہ کار کے مطابق جواب دے گا۔






